تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 33 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 33

تاریخ احمدیت جلد ۵ 33 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال فضل سے ۱۶ / جون کو ممالک خارجہ اور ہندوستان کے لیکچراروں کی تعداد درج رجسٹر ۱۴۱۹ تھی۔منویا مطالبہ سے ۴۱۹ زیادہ لیکچرار تھے۔اور پھر خصوصیت اس میں یہ تھی کہ مختلف علاقوں سے ہمیں ۲۵ غیر مسلم لیکچرار اصحاب کے نام ملے۔اگر چہ ۱۷ / جون کے دن غیر مسلم لیکچراروں کی تعداد اس سے بہت زیادہ تھی جو بر وقت مقامی طور پر جلسوں میں بخوشی حصہ لینے کے لئے تیار ہو گئے۔غرض لیکچراروں کے حصول میں ہمیں امید سے بڑھ کر کامیابی ہوئی " 44- لیکچراروں کی رہنمائی کے لئے جہاں تک لیکچراروں کو مواد فراہم کرنے کا تعلق مفصل نوٹوں کی طباعت اور الفضل تھا اس کے لئے حضرت چوہدری صاحب نے یہ انتظام فرمایا کہ مجوزہ مضامین کے متعلق مفصل کے "خاتم النبیین نمبر کی اشاعت نوٹ تیار کرائے اور وہ پانچ ہزار کی تعداد میں طبع کرا کے لیکچراروں کو بھیجوا دئیے۔جس سے ان کو بہت مدد ملی۔علاوہ بریں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر ادارہ " الفضل " نے پانچ روز قبل ۱۲/ جون ۱۹۲۸ء کو ۷۲ صفحات پر مشتمل نهایت شاندار۔خاتم انسین نمبر " شائع کیا جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور دوسرے ممتاز بزرگان احمدیت و علماء سلسلہ اور احمدی مستورات 7 کے علاوہ بعض مشہور غیر احمد کی زعماء اور غیر مسلم اصحاب کے نہایت بلند پایہ مضامین تھے۔آنحضر الله کی شان اقدس میں متعدد نعتیں بھی شامل اشاعت تھیں جن میں سے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کا ” سلام بحضور سید الا نام " اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی نظم بعنوان "پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار " کو اپنوں اور بیگانوں میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔" خاتم التنسین نمبر سات ہزار چھاپا گیا۔جو چند روز میں ختم ہو گیا اور دوستوں کے اشتیاق پر دوبارہ شائع کیا گیا۔یہ تحریک تمام اقوام تحریک سے متعلق عجیب و غریب غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش ہار کے لئے مون عالم عموماً اور مسلمانوں کے لئے نہایت مفید و با برکت تحریک تھی۔لیکن تعجب اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مسلم حلقوں میں شروع ہی سے اس کی مخالفت میں آواز اٹھائی گئی اور اس کے متعلق عجیب و غریب اعتراضات کئے گئے مثلاً بعض نے کہا یہ تحریک حکومت کے منشاء کے تحت اور حکومت سے تعاون کرنے کی تلقین کے لئے کی گئی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ ان جلسوں میں چندہ جمع کیا جائے گا۔بعض نے کہا کہ احمدی اس طرح اپنے عقائد کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور یہ تحریک خود غرضی پر مبنی ہے۔ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ مذہبی معاملہ میں غیر مسلم کیوں شریک کئے گئے۔