تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 558
تاریخ احمدیت جلد ۵ 546 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ جب یہ میموریل چیف جسٹس صاحب کے پاس پہنچا۔تو انہوں نے فورا شیخ صاحب سے ملاقات کرنا چای شیخ صاحب میرے پاس تشریف لائے کہ چیف جسٹس کی روبکار بغرض ملاقات مجھے پہنچی ہے اور میں نے شیخ صاحب سے معدرجہ ذیل گفتگو کی۔چیف جسٹس کا یہ خیال کہ مسلمان انہیں بے انصاف سمجھتے ہیں دور ہونا چاہئے۔اور یہ ایک ایسا امر ہے جو چیف جسٹس کو تمام ہندوستان میں نیک نام اور انصاف پسند قرار دے چکا ہے اور تمام مسلمان ان کے ممنون ہیں۔اور ان کی انصاف پسندی کے قائل ہیں۔وہ امر یہ ہے کہ جب راجپال نے ”رنگیلا رسول "کتاب لکھی اور اس پر مقدمہ قائم ہوا۔اور سر دلیپ سنگھ نے بطور جج ہائیکورٹ یہ قرار دیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا شاتم موجودہ قانون کی رو سے ! مجرم نہیں قرار پا سکتا۔اور راجپال کو بری کر دیا۔اور یہ بات سب کو معلوم ہے اس کے بعد اس قسم کے مقدمہ توہین رسول کے الزام میں ایک شخص کالی چون کے خلاف الہ آباد ہائیکورٹ کے دائر ہوا۔اور جب یہ مقدمہ ہائیکورٹ میں پہنچا تو سر دلال حجج تھے۔ان کے سامنے سر دلیپ سنگھ کے فیصلہ کا حوالہ دیا گیا کہ شاتم رسول مجرم نہیں ہوتا۔جو سر دلال نے نہایت حقارت سے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے مجرم کو سزادی اور قرار دیا کہ قانونا شاتم رسول گبری نہیں ہو سکتا۔اور یہ جرم ہے۔دونوں ہائیکورٹوں کے فیصلے متضاد ہو گئے۔اس پر گورنمنٹ نے تعزیرات ہند کی دفعہ متعلقہ میں ترمیم کی اور مذہبی پیشواؤں کی ہتک کو جرم قرار دیا۔میں نے شیخ صاحب سے عرض کیا کہ اگر سرد لال پوچھیں تو آپ مندرجہ بالا وفعات کا ذکر کریں اور یہ کہ ہم تو کیا ہندوستان کے تمام مسلمان آپ کی انصاف پسندی کے قائل ہیں۔اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں بھی کوئی تعصب آپ کی موجودگی میں انصاف کی راہ میں حائل نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ شیخ صاحب جب سر دلال سے ملاقی ہوئے تو انہوں نے یہی سوال کیا کہ انہیں نا انصاف سمجھا جاتا رہا لیکن شیخ صاحب کے میموریل میں انہیں با انصاف ظاہر کیا گیا ہے اس کی کیا وجہ ہے جو ابا شیخ صاحب کی طرف سے دلیپ سنگھ والا مقدمہ اور کالی چرن والا مقدمہ مذکور ہوئے جیسا کہ اوپر درج کیا گیا ہے۔یہ سن کر سرد لال بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔کہ ہاں میں نے جو اس وقت فیصلہ کیا مسلمانوں کا بچہ بچہ اسے جانتا ہے۔اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں چیف جسٹس ہو تا ہوا کشمیر میں پورا عدل و انصاف نہ کراؤں۔جن جن مقدمات میں نا انصافی ہوئی ہے آپ بے شک کوائف مجھے بھیج دیں۔حسب ضرورت اس میں دست اندازی کروں گا۔اس ملاقات کے بعد شیخ صاحب میرے پاس تشریف لائے۔اور انہوں نے ملاقات مندرجہ بالا کا ذکر فرمایا اور یہ کہ جن مقدمات میں نا انصافی ہوئی ہے ان پر نوٹ لکھا جائے۔اور یہ کہ سر دلال بالکل }