تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 545 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 545

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 533 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ریاست کے ظالم اور بد نماد حکام کی سرکوبی کی طرف توجہ فرمائی اور اس کام کے لئے حضور نے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو منتخب فرمایا۔حضرت شاہ صاحب نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اپنا فرض اس خوبی تقدیر ذہانت اور معاملہ فہمی سے ادا کیا کہ ظالم افسر کیفر کردار تک پہنچ گئے۔اس اجمال کی تفصیل حضرت شاہ صاحب نے اپنے قلم سے جو تحریر فرمائی ہے وہ درج ذیل ہے۔آپ لکھتے ہیں۔طویل جدوجہد کی اثناء میں جو ۱۹۳۱ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۳۴ء کے آخر تک جاری رہی حکومت کشمیر کی طرف سے قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالی گئیں۔دھمکیاں دی گئیں بلکہ گرفتاری کے وارنٹ تک جاری ہوئے۔چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ بھی ان کارکنوں میں سے ایک تھے جن کی گرفتاری کے وارنٹ مسٹر سالسبری پیشل آفیسر میرپور کے حکم سے صادر ہوئے۔اور وہ لاہور میں اچھے۔انہوں نے میرپور میں کام کیا تھا۔وہ دشوار گزار علاقے میں پیدل سفر کر کے مظلوموں کی مدد کو وہاں پہنچے جہاں چوٹی لال سب انسپکڑنے نہایت ہی گندے ظلموں کا ارتکاب کیا تھا۔اور رام چند ڈی آئی جی پولیس نے ظالموں کو پناہ دی۔اور ہمارے کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے اس قسم کے ظالم حکام کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے میں بھیجا گیا۔اور اس کے لئے مجھے بھی جموں وکشمیر اور پونچھ میں دور و نزدیک علاقہ جات کے پیدل اور گھوڑے پر سفر کرنے پڑے تھے۔ظالموں کی فہرستیں تیار کیں۔مظلوموں کے بیانات سنے اور نقشے بنائے اور ہسٹری شیٹ تیار کی۔اس اثناء میں ایک دن جبکہ میں ہاؤس بوٹ میں تھا۔شیخ محمد عبد اللہ صاحب عصر کے بعد آئے سرسے ننگے آواز میں گھبراہٹ تھی۔بخشی غلام محمد صاحب ان کی حفاظت کے لئے پیچھے پیچھے تھے جو ہاؤس بوٹ کے باہر رہے۔شیخ صاحب مجھے سے کہنے لگے۔شاہ صاحب! ایک خطر ناک خبر ہے۔میں نے کہا مجھے معلوم ہے۔کہنے لگے کیا ؟ میں نے کہا مروانے کا انتظام ہو گیا ہے۔وہ یہ سن کر حیران ہوئے اور کہا یہی خبر میں لایا ہوں مہاراجہ صاحب کے محل کے فلاں کارکن نے بتایا ہے کہ کانگڑہ اور دیلی سے چار آدمی بلائے گئے ہیں اور ان کے سپرد یہ کام ہوا ہے۔کہ آپ کو اور مجھے مروا دیا جائے۔میں نے کہا کہ اطلاع درست ہے۔مجھ سے دریافت کیا۔کہ آپ کو کس نے بتایا ہے۔میں نے اپنا ذریعہ خبر رسانی بتانے سے معذرت کی (دراصل یہ ایک کھلا بیداری کی حالت میں مکاشفہ تھا۔اور بلند آواز سے احتیاط کرنے کی ہدایت تھی اس لئے بنانے سے ہچکچا یا ) انہوں نے کہا کہ کیا تجویز ہے۔میں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو ابھی اطلاع دی جائی چاہئے۔جو ایک آدمی کے ہاتھ بھیجنی مناسب ہے۔چنانچہ چٹھی لکھی گئی کہ اگر ہم مارے گئے تو اس کی ذمہ داری ماراجہ صاحب پر ہوگی۔اور درخواست کی یہ چینی بینک میں محفوظ کر دی جائے۔چنانچہ شیخ