تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 542 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 542

تاریخ احمدیت جلده 530 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ اور اس میں مناسب اصلاح فرمائی خط میں انہیں ہفتہ عشرہ کی مہلت دی گئی۔دراصل میرے نزدیک بغاوت کو ہوا دینے اور ظلم کرنے والے یہ اور بڑو صاحب تھے۔یہ دونوں بغاوت فرو کرنے کے بہانے داد لینا چاہتے تھے کہ بڑا تیر را ہے۔انہوں نے میرے خط کی پروانہ کی بلکہ میرے خلاف کارروائی کرنے کے لئے سرینگر پہنچے۔میں بھی سرینگر پہنچ گیا۔چنانچہ سرینگر میں وزیر اعظم مسٹر کالون سے ملا۔اور رپورٹ پیش کی۔اور اس کی کاپی مسٹر جار ڈین پولیٹیکل وزیر کو بھی دی۔اور صورت حال سے انہیں پوری طرح آگاہ کیا۔دونوں انگریز افسر میری رپورٹ سے پورے طور پر مطمئن اور متفق تھے دوسرے یا تیسرے دن مجھے اطلاع ملی کہ محترم وزیر صاحب پونچھ ملازمت سے علیحدہ کئے گئے ہیں۔اور بڑو صاحب ریاست بد را پنڈت بلکاک وزیر اسلام آباد کے مظلموں کی داستان لیبی ہے لیکن سب سے بڑھ کر ظلم انہوں نے یہ کیا تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی شیخ محمد عبد اللہ میرے اور درد صاحب مرحوم وغیرہ کے جعلی دستخطوں سے چٹھیاں لکھوائیں۔یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہم مہاراجہ کشمیر کو علیحدہ کرنے کی سازش میں ہیں اور مسٹر پیل آئی جی پولیس نے جب مجھے ریاست سے واپس جانے کے لئے کہا تو یہ بھی دھمکی دی کہ وہ ہماری سازش کو بر سر عام لانے والے ہیں اور ہمارے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔میں نے مسکراتے ہوئے ان کی اس دھمکی کو قبول کیا اور کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا کہ آپ ان الفاظ کے دہرانے سے شرم محسوس کریں گے چنانچہ انہوں نے پنجاب سی آئی ڈی کی مدد سے اس جعلی خط و کتابت کی تحقیق کی۔اور ثابت ہوا کہ ان تمام چٹھیوں میں سے صرف ایک چٹھی کے دستخط اصلی ہیں۔یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی چٹھی کے۔جو بحیثیت صدر کشمیر کمیٹی شیخ محمد عبد اللہ کو لکھی گئی اور اس کا یہ مضمون تھا کہ مہاراجہ کشمیر کو بالکل متنی رکھا جائے۔کیونکہ مظالم کے ذمہ دار حکام ریاست ہیں یا ناقص قانون نہ کہ مہاراجہ صاحب ان کی اصلاح ہونی چاہئے۔اس پر پنڈت بلکاک کی علیحدگی کا فیصلہ ہوا۔یہ مسل پہلے مسٹر جارڈین کے دفتر میں غائب ہو گئی تھی۔لیکن وہ جلد ہی واپس قبضے میں لے لی گئی۔انہوں نے مجھے وہ فائل بھی دکھائی۔۔۔میں نے انہیں پنڈت بلکاک کے خلاف کارروائی پایہ تکمیل تک پہنچانے کی یاد دہانی کی۔اور مجھے فائل کی گمشدگی کی تفصیل بھی بتائی۔یہ واقعات اختصار سے میں نے اس لئے بیان کئے ہیں تا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی نگرانی کے تحت ان کے بھیجے ہوئے کارکنان کے کام کی نوعیت معلوم ہو اور یہ کہ مظلومانان کشمیر کی کس طرح دادری کی گئی۔چنانچہ علاقہ سرن اور مینڈھیر کے جرمانے معاف ہوئے اور میری دوسری ملاقات میں مہاراجہ صاحب پونچھ نے میرے سامنے قید اور پھانسی کی سزاؤں کے احکام منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔قید و بند میں پڑے ہوئے مسلمان