تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 541 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 541

تاریخ احمدیت جلد ۵ 529 تحریک آزادی کشمیراء رجماعت احمدیہ کے مکانات جلائے ہیں۔تھکیالا پڑاوا کے مسلمان رؤساء بھی قید میں تھے۔سردار فتح محمد خان (کریلہ ) روپوش تھے ان کے خلاف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف پھانسی کے احکام عدالت سے جاری ہو چکے تھے۔اور ان کے والد اور رشتہ دار سب قید و بند میں تھے۔چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ ایڈووکیٹ وغیرہ احمدی وکلاء ان کے مقدمات کی پیروی کے لئے بھیجے گئے تھے۔اور میں ان مظلوموں کی مدد کے لئے بھیجا گیا۔سب سے پہلے میں نے آنجہانی راجہ پونچھ (سکھ دیو) سے ملاقات کی۔۔۔۔۔راجہ صاحب نے مجھے اجازت دی کہ میں خود فسادات کے مواقع دیکھوں اور حالات کی تحقیقات کروں۔یہی میرا مقصد اس ملاقات سے تھا اور انہوں نے وزیر صاحب کو حکم دیا۔وہ کورنش بجالائے۔آخر فیصلہ یہ ہوا کہ میں اگلی صبح سفر پر روانہ ہوں اور وہ اس بارے میں متعلقہ علاقہ جات کے افسران کو پروانہ بھیج دیں گے کہ میرے لئے سہولتیں بہم پہنچائی جائیں۔اور مجھے کہا کہ روانہ ہونے سے پہلے ان سے ملوں۔میں نے اس کے لئے ان سے مدد نہیں مانگی تھی۔بلکہ چاہتا تھا کہ تنہا فساد زدہ علاقوں کا دورہ کروں۔دوسری صبح جب ان کے ہاں گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور نو دس بجے جاگتے ہیں میں یہ جانتا تھا اس لئے عمد اصبح سویرے کا سفر اختیار کیا۔۔۔۔یہ اللہ تعالٰی کا احسان ہوا کہ ایک ہی ہفتہ میں علاقہ تھکیالہ پڑاوا مینڈھیر اور سرن کا دورہ مکمل کر لیا۔اور یہی علاقے فساد زدہ تھے۔تھکیالہ پڑارا کا سفر بہت ہی تھکا دینے والا تھا۔راستے میں کہیں کھانے کے لئے کچھ نہ ملا۔پہاڑی پر پگڈنڈیوں کا راستہ تھا۔رات تاریک تھی گھوڑے تھے مگر ان پر سفر محفوظ نہ تھا۔اور چڑھائی کی وجہ سے تکلیف دہ اور رات بارہ ایک بجے کے درمیان پیدل کر یلا مقام پر پہنچا۔جہاں جنگل میں سردار فتح محمد خان صاحب روپوش تھے۔وہ مجھے رات ہی کو ملے اور میں نے انہیں مشورہ دیا کہ یہاں سے چلے جائیں۔کیونکہ پھانسی کے احکام صادر ہو چکے ہیں۔میں سرن سے پہاڑیوں اور ندیوں اور وادیوں کو عبور کرتا ہوا موسلادھار بارش میں آدھی رات پونچھ پہنچا۔راستے میں تین چار دفعہ کپڑے تبدیل کرنے پڑے۔راستہ میں ندی تھی پندرہ ہیں پونچھیوں کی مدد سے ندی عبور کی اور انہیں معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ ان کے جرمانے معاف کروانے اور ظالموں کو سزا دلانے کی غرض سے میرا یہ سفر ہے۔دوسرے دن رپورٹ مرتب کی اور نقشہ جات مقامات فساد زدہ بھی تیار کئے۔مسٹر جار ڈین نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ان سے یہاں نہ ملوں بلکہ سرینگر میں ملوں اسی دن وہ تو سرینگر چلے گئے۔میں قادیان آیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سامنے رپورٹ پیش کی۔آپ نے فرمایا کہ میرا پہلا اخلاقی فرض یہ ہے کہ رام رتن صاحب ایم اے وزیر پونچھ کو خط لکھوں اور ان کو اصلاح حال کا موقع دوں۔اور اگر وہ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو پھر سرینگر جاکر حکام بالا کو صورت حال سے آگاہ کروں۔چنانچہ میں نے انہیں مفصل خط لکھا۔جو حضور نے ملاحظہ کیا۔