تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 540
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 528 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ہوتی رہی۔میں نے اپنے کلرک کو سمجھا دیا تھا کہ ایک طرف بیٹھ کر وہ واقعات ایسے طور سے نوٹ کرلے کہ کسی کو معلوم نہ ہو۔چنانچہ مسٹر سالسبری کو بہت حد تک تسلی ہوئی اور انہیں یقین ہو گیا کہ اس علاقہ کے لوگ واقعی مظلوم ہیں۔جس کی تمام تر ذمہ داری رام چند ڈی- آئی۔جی اور ڈوگرہ سپرنٹنڈنٹ پر ہے جس کا نام غالبارام رتن تھا۔میں نے مہاجرین کو تسلی دی اور انہیں واپس کیا۔دو ہفتہ تک جہلم کے مسلمانوں نے جن میں جماعت احمد یہ جہلم بھی تھی۔مظلوم مہاجرین کی کھلے دل سے مدد کی۔رپورٹ مرتب کر کے میں نے جموں آکر وزیر اعظم مسٹر کالون کے سامنے پیش کی۔انہوں نے یہ رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس مسٹر لا تھر کو بھیجی اور جب یہ رپورٹ ان کو دی گئی تو میں ان کے پاس ہی تھا۔اور محمد یوسف صاحب سابق لیفٹیننٹ (پسر مولوی قطب الدین) اپنی وردی میں ملبوس میری کرسی کے پیچھے کھڑے تھے۔ان سے ایک عجیب حرکت صادر ہوئی۔اگر کوئی مکھی میری طرف آتی تو اسے دور کرتے اور ایک دفعہ جھک کر میرے بوٹ سے بھی مٹی صاف کی۔بعد میں میں نے پوچھا آپ نے یہ کیا حرکت کی مجھے سخت شرم محسوس ہو رہی تھی۔کہنے لگے یہ اس لئے کیا تا آئی جی پولیس کو آپ کے مقام کا علم ہو۔اسی روح تواضع وبے نفسی کے ساتھ ہمارے کارکن محاذ کشمیر میں کام کرتے رہے۔مولوی ظہور الحسن صاحب نے بہت محنت سے کام کیا۔اور اسی طرح دوسروں نے بھی جب مسٹر لا تھر میری رپورٹ پڑھ چکے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں پنجاب واپس جا رہا ہوں میں نے کہا۔آج جانے کا ارادہ ہے۔کہنے لگے نہیں آپ ٹھر جائیں۔پرائم منسٹر میں اور مسٹر جار ڈین آج رات سیالکوٹ جارہے ہیں۔مسٹر سٹیمر ریزیڈنٹ جموں و کشمیر کے ساتھ مشورہ کرتا ہے اور مسٹر سالسبری کو بذریعہ تار بلوایا گیا ہے۔کل نتیجہ سن کر جا ئیں چنانچہ دوسرے دن صبح میں ان کے ہاں گیا اور انہوں نے بتایا کہ سالسبری کو پنجاب واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوا اور رام چند ڈی آئی جی کی جبری ریٹائر منٹ کا۔میں نے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کو اطلاع دی اور دوسرے دن اخباروں میں بھی شائع ہو گیا"۔مظلومین پونچھ کی امداد کیلئے سید ولی میرپور کے مسلمانوں کی امدادی مہم مکمل ہو جانے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ اللہ شاہ صاحب کی مساعی جمیلہ تعالی نے شاہ صاحب کو مظلومین پونچھ کی فریاد رسی کے لئے بھیجا۔حضرت شاہ صاحب اس واقعہ کی تفصیل میں بیان فرماتے ہیں۔علاقہ پونچھ میں جگہ جگہ فسادات ہوئے۔ڈوگروں نے مسلمانوں پر ظلم توڑے اور ان کے بڑے بڑے آدمیوں کو قید میں ڈالا۔علاقہ مینڈھیر اور علاقہ سرن وغیرہ پر ڈیڑھ سے دو لاکھ جرمانے ڈالے گئے۔اور جرمانوں کو وصول کرنے کے لئے مسلمانوں پر سختیاں کی گئیں۔الزام یہ تھا کہ ان لوگوں نے بغاوت کی ہے۔اور ہندوؤں