تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 535 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 535

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ بنا سکیں۔523 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اس لئے میں ایک بار پھر یور ایکسی لینسی سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کر کے حالات کو بد تر صورت اختیار کرنے سے بچالیں۔اگر یور ایکسی لینسی کے لئے اس میں مداخلت ممکن نہ ہو تو صربانی فرما کر مجھے اطلاع کرا دیں۔تامیں مسلمانان کشمیر کو اطلاع دے سکوں کہ اب ان کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ یا تو جد وجہد میں ہی اپنے آپ کو فنا کر دیں اور یا دائمی غلامی پر رضامند ہو جائیں"۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده الله ریاست کشمیر کا مقابلہ کرنے کے لئے نیا پروگرام تعالی نے وائسرائے صاحب اور مہاراجہ صاحب کو توجہ دلانے کے علاوہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور ان کے دوسرے رفقاء کے نام ۲۷/ جنوری ۱۹۳۲ء کو بذریعہ مکتوب مندرجہ ذیل ہدایات بھیجیں۔مسٹر عبد اللہ قید کر لئے گئے ہیں اور مفتی ضیاء الدین صاحب نکال دیئے گئے ہیں۔ان حالات میں ریاست کا منشاء صاف ظاہر ہے کہ وہ کشمیر کمیٹی کے کام کو کچلنا چاہتی ہے اور ایک دفعہ تحریک کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔اس صورت میں ریاست سے تعاون یا اس کی امداد خود اپنے سے دشمنی ہے میرے نزدیک اب وقت ہے کہ پوری طرح ریاست سے مقابلہ کیا جائے۔میں نے اس کے لئے تیاری شروع کر دی ہے۔افسوس کہ احرار کی تحریک نے اس کام کو خراب کر دیا۔اور جو اثر ہم نے پیدا کیا تھا اسے تباہ کر دیا۔اب نئے سرے سے کوشش کی ضرورت ہوگی۔مگر مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ ہم فتح پائیں گے اب اگر آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ گفتگو کے نتیجہ میں مسٹر عبد اللہ اور دوسرے قیدی رہا ہو سکتے ہیں تو گفتگو کو جاری رکھیں ورنہ گفتگو کو بند کر دیں۔اور واپس آکر مقابلہ کا پروگرام تیار کرنے میں میری مدد کریں اور پھر اس کے پورا کرنے میں۔اب ضرورت ہے کہ سب پریس یکدم ایک آواز اٹھائے اور حکومت ہند پر پورا زور دیا جائے۔ہاں واپس آنے سے پہلے ایک دفعہ ریذیڈنٹ اور مسٹر کلینسی سے مل کر ان کی امداد حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔اگر ان کی معرفت بھی کچھ نہ ہو سکے تو پھر ہمارا فرض ہے کہ پورا زور لگا کر ریاست کی شرارت کو کچلا جائے۔آتے ہوئے خود ریاست میں جہاں تک ہو سکے نظام قائم کرتے آئیں۔اور اندر کے کام کے متعلق بھی مشورہ کرتے آئیں۔احرار کے پروگرام سے بہر حال ہمارا اتفاق نہیں ہو سکتا۔اس لئے اپنے اصول پر سب داغ بیل ڈالی جائے"۔