تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 534 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 534

تاریخ احمد حمد - جلد ۵ 522 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے سب سے زیادہ انہیں مالی مدد کی ضرورت تھی۔یہ ایک ایسا پروگرام تھا۔کہ اس پر متحدانہ طریق پر عمل ہو تا تو اسلامیان کشمیر کو بے انتہاء فوائد مرتب ہوتے لیکن سوء تقدیر سے احرار کی افتراق انگیزی کے باعث اس پر اس طرح عمل نہ ہو سکا۔جس طرح کہ ہونا چاہئے تھا۔تاہم کشمیر کمیٹی نے مخالف حالات کی موجودگی میں جو کیا اور جو کر رہی ہے کسی آئندہ وقت میں جبکہ حالات کلیتہ پر سکون ہو جائیں گے روشن ہو جائے گی۔اور مسلمان دیکھ لیں گے کہ حق بجانب کون تھا۔اتنا تو اس وقت بھی ظاہر ہو گیا۔کہ دو تین مرتبہ کھیل بن بن کر بگڑ گیا۔جتھے بازی بے سود اور مضرت رساں ثابت ہوئی اس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان پہنچا۔احرار کی جانب سے مسلمانان خطہ کو کوئی مالی امداد بھی نہ ملی ان کے جارحانہ اقدام کے باعث حکومت پنجاب رہند بھی برگشتہ ہو گئی جس کا اثر ان تحقیقاتی کمشنوں پر پڑا۔جو بڑے پرزور مطالبات اور بڑی جہدو کوشش سے مقرر کرائی گئیں اور اسلامیان کشمیر کی حالت بد سے بد تر ہو گئی"۔شیخ محمد عبداللہ صاحب اور دوسرے زعماء ۲۷/ جنوری ۱۹۳۲ء کو سرینگر سے شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور ان کے رفقاء کی گرفتاری کشمیر کی گرفتاری پر احتجاج اور ان کی رہائی اور مفتی ضیاء الدین صاحب کے جبر یہ اخراج کی خبر قادیان پہنچی تو حضور نے فورا مہاراجہ کشمیر کو تار دیا کہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ مسٹر عبد اللہ کو سرینگر میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔حالانکہ صرف وہی ایسا آدمی تھا جس کے مشورے ریاست میں قیام امن کا موجب رہے ہیں۔اور اس کی گرفتاری سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی حکام امن کے خواہش مند نہیں بلکہ بدامنی چاہتے ہیں۔میں یو رہائی نس سے آخری بار التماس کرتا ہوں کہ مہربانی فرما کر حکام کو اس تشدد اور سختی سے روک دیں۔وگرنہ باوجود ہماری انتہائی کوشش کے مجھے خطرہ ہے کہ خواہ کتنے بھی آرڈنینس جاری کئے جائیں امن قائم نہ ہو سکے گا۔اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر ہو گی"۔ساتھ ہی وائسرائے ہند کے نام بھی تار دیا کہ ”ہماری مصالحانہ مساعی کے باوجود ریاستی حکام مسلمانوں پر انتہائی تشدد میں مصروف رہے اور جلسوں کی ممانعت پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع کی ممانعت وغیرہ کے لئے ان مقامات پر بھی آرڈی نینس جاری کر دیئے گئے جہاں بالکل امن و امان تھا اب خبر آئی ہے کہ مفتی ضیاء الدین صاحب کو جبر احد و د ریاست سے نکال دیا گیا ہے اور مسٹر عبد اللہ کو ان کے رفقاء سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔جس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ ریاستی حکام خود ہی فتنہ انگیزی کرنا چاہتے ہیں تا حکومت برطانیہ کی ہمدردی حاصل کر سکیں اور مسلمانوں کو برباد کرنے کے لئے بہانہ