تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 533
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 521 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سرکاری افسروں سے ملنے کے بعد سازش کی کہ جموں کے مسلمانوں کو تہ تیغ کر کے ان کے مکانات کو لوٹا اور جلا دیا جائے اور اس غرض کے لئے مسلح دیہاتی راجپوتوں کو اجرت پر منگوانے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سازش کا علم ہوتے ہی مسلم ایسوسی ایشن جموں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو تار دیا کہ وہ مہربانی فرما کر احتیاطی انتظامات کرانے کی کوشش فرما ئیں۔مسلمان سخت مضطرب ہیں "۔20 سول نافرمانی کی تحریک ان مخدوش حالات میں مسلمانوں کی طرف سے ذرہ برابر غیر قانونی حرکت بارودی ماحول کو شعلہ دکھانے کے مترادف تھی۔لیکن افسوس وقت کی نزاکت کے سراسر خلاف اور ریاست کے ذمہ دار مسلمان نمائندوں کی اجازت کے بغیر میر پور میں عدم ادائے مالیہ کی تحریک جاری کر دی گئی اور سول نافرمانی کا پروگرام بنا لیا گیا۔جس کا خمیازہ پورے صوبہ جموں بلکہ پوری ریاست کے مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔جگہ جگہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور شیخ محمد عبد اللہ اور دوسرے نامور لیڈر گرفتار کر لئے گئے اس سلسلہ میں جناب چوہدری غلام عباس صاحب اپنی کتاب "کشمکش" میں تحریر فرماتے ہیں۔چند نوجوان احرار کے حامی تھے انہوں نے مسلم ایسوسی ایشن پر دباؤ ڈالا کہ ریاست کے مسلمان احرار کی رفاقت سے کام کریں۔جماعت احرار کے لیڈروں اور بزرگوں سے جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کو شدید اختلافات تھے۔یہ تحریک انہوں نے ہماری شدید مخالفت کے باوجود ایسے حالات میں شروع کی جو اسلامیان ریاست کی اس وقت کی سیاسی فضا کے لئے سازگار نہ تھی کمیشن کے فیصلہ کی طرف ہندوستان اور ریاست کے مسلمانوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور ہر معقول آدمی اس وقت کسی غیر آئینی کار روائی کو مفاد ملت کے خلاف ایک تخریبی حرکت تصور کرتا تھا۔میری غیر حاضری میں مسلم ایسوسی ایشن کا کام ساغر صاحب کے ہاتھ میں تھا۔انہوں نے جماعت احرار کی تحریک کے رد عمل کے لئے انفرادی سول نافرمانی کی۔اور پچاس کے قریب نو جوانوں کے ہمراہ قید ہو گئے انہی دنوں میرپور میں تحریک عدم ادائے مالیہ کسی طے شدہ پروگرام اور مسلم نمائندگان ریاست سے مشورہ کئے بغیر شروع کر دی گئی۔اخبار "سیاست" یکم مارچ ۱۹۳۲ء نے لکھا۔"کشمیر جنت نظیر میں ہندو کار پردازان حکومت کشمیر کی نا اہلی اور مکرو تعصب کے سبب اسلامیان خطہ پر جو قیامت برپا ہوئی۔۔۔۔اسلامیان ہند کو ان زہرہ شگاف تکالیف نے تڑپا دیا۔اور دیوانہ وار وہ ان کی مدد و اعانت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی اسی غرض کے لئے مرتب ہوئی ، قرار پایا کہ اسلامیان خطہ کو جن میں انتہائی حالت پر پہنچ کر احساس خود داری پیدا ہوا ہے ہر ممکن اور جائز طریق سے مدد دی جائے انہیں حصول مقصد کے لئے بہترین طریق کار سمجھایا جائے اور ان کو مالی امداد دی جائے کیونکہ بوجہ ان کی بے انتہا مفلوک الحالی re