تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 528 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 528

تاریخ احمدیت جلد ۵ 516 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ خرابی اور بارش کی وجہ سے ہمیں مجبور آراستے میں ان ہی غاروں میں سے ایک غار میں رات ٹھہرنا پڑا۔گلانی کمیشن کے تعلق میں فصل کے اختتام پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے قلم سے ایک اہم واقعہ کا درج کرنا ضروری ہے۔حضور فرماتے ہیں گور نمنٹ آف انڈیا نے ایک والتی ریاست کو اسی غرض کے لئے مقرر کیا۔کہ کس طرح اس جھگڑے کا وہ فیصلہ کروا دیں۔انہوں نے میری طرف آدمی بھیجے اور کہا کہ جب تک آپ دخل نہیں دیں گے یہ معاملہ کسی طرح ختم نہیں ہو گا۔میں نے کہا مجھے تو دخل دینے میں کوئی اعتراض نہیں۔میری تو اپنی خواہش ہے کہ یہ جھگڑا دور ہو جائے۔آخر ان کا پیغام آیا کہ آپ دہلی آئیں۔میں دہلی گیا۔چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔دو دفعہ ہم نے کشمیر کے متعلق سیکیم تیار کی۔اور آخر گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ فیصلہ ہوا کہ ان ان شرائط پر صلح ہو جانی چاہئے۔اس وقت کشمیر میں بھی یہ خبر پہنچ گئی۔اور مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم نے فیصلہ میں دیر کی تو تمام کریڈٹ جماعت احمدیہ کو حاصل ہو جائے گا۔چنانچہ پیشتر اس کے کہ ہم اپنی تجاویز کے مطابق تمام فیصلے کروا لیتے مسلمانوں نے ان سے بہت کم مطالبات پر دستخط کر دیئے حالانکہ ان سے بہت زیادہ حقوق کا ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ فیصلہ کروا چکے تھے "