تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 527 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 527

تاریخ احمدبیت۔جلده 515 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف حضرت امام جماعت احمدیہ نے گلانسی کمیشن کی سے گلانسی اور زعماء کشمیر کو مبارکباد سفارشات اور مہاراجہ صاحب کے فیصلہ جات پر مفصل تبصرہ شائع فرمایا۔اس تبصرہ میں حضور نے جہاں مسٹر کلینسی کو مبارک باد دی وہاں کلینسی کمیشن کے مسلمان ممبروں یعنی چوہدری غلام عباس صاحب اور خواجہ غلام احمد صاحب اشائی کی خدمات کو بہت سراہا اور گلینسی رپورٹ کے فیصلہ ملکیت اراضی پر خاص طور پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔کہ گو بظا ہر یہ صرف ایک اصطلاحی تغییر معلوم ہوتا ہے۔لیکن چند دنوں کے بعد اس کے عظیم الشان نتائج کو لوگ محسوس کریں گے۔اور یہ امر کشمیر کی آزادی کی پہلی بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے اہل کشمیر پر زندگی کا نیا دور شروع ہو گا۔مجھے اس تغیر پر دو ہری خوشی ہے کیونکہ اس مطالبہ کا خیال سب سے پہلے میں نے پیدا کیا تھا اور زور دے کر اس کی اہمیت کو منوایا تھا بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ مطالبہ مانا نہیں جاسکتا۔مگر اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ آخر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔مگر ساتھ ہی یہ وضاحت فرمائی کہ "ابھی ہمارا بہت سا کام پڑا ہے اور اسے پورا کئے بغیر ہم دم نہیں لے سکتے۔نیز ہمیں یہ بھی یادر کھنا چاہئے کہ صرف قانون سے ہم خوش نہیں ہو سکتے کیونکہ قانون کا غلط استعمال اچھے قانون کو بھی خراب کر دیتا ہے پس دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ جات پر مہاراجہ کی حکومت عمل کس طرح کرتی ہے "۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کا دورہ کشمیر حضور نے صرف اس اعلان پر ہی اکتفا نہیں فرمایا۔بلکہ جلد ہی سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو کشمیر میں بھجوایا۔کہ اندرون ریاست میں جاکر معلوم کریں۔کہ گلانسی سفارشات پر کہاں تک عمل ہوا ہے چنانچہ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ”میں نے گاندربل کے قومی کارکن مسٹر غلام قادر کو ساتھ لیا اور کشمیر ٹورسٹ گائیڈ کی مدد سے دور دراز علاقوں میں گیا۔سون مرگ بال مل بالتستان در از پاپت وادی (ریچھ والی وادی) شیطان کند تر اگر بل بانڈی پورہ سوپور بارہ مولا و غیرہ علاقوں کا دورہ کرتا ہوا۔دو تین ماہ بعد سرینگر پہنچا۔گھوڑے کی سواری سے پنڈلی کے بال جھڑ چکے تھے۔جو اب تک صاف ہیں سر اور داڑھی کے بالوں میں سفیدی شروع ہو گئی تھی ان سفروں میں مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ منظور کردہ اصلاحات نافذ ہیں۔بکروال وغیرہ قبائل نے میرا ہر جگہ خوشی سے استقبال کیا۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو دعائیں دیں کہ ان کے کاہ چرائی کے ٹیکس کم ہوئے۔اس سفر کے اثناء میں بعض وقت مجھے ریچھوں کی غاروں میں رات گزارنا پڑی۔ریچھ موسم گرما میں برفانی چوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور غاریں خالی ہوتی ہیں۔موسم کی