تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 526
جلده 514 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ لئے مہاراجہ نے یہ اعلان کیا کہ اس نوع کی تمام مقدس عمارتیں مسلمانوں کے سپرد کر دی جائیں اور اگر ان پر قابض لوگوں کو معاوضہ دینے کا عدالتی فیصلہ ہو تو ریاست اسے معاوضہ ادا کرے۔اور نئی مساجد بنانے کی درخواست پر بھی ہمدردانہ غور کیا جائے۔مہاراجہ صاحب کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ہر قوم کو ریاست میں کامل مذہبی آزادی ہے اور اگر کوئی شخص اذان میں مداخلت کرے تو اسے سزادی جائے۔یا کسی کو اس کی تبدیلی مذہب کی بناء پر ہراساں اور خوفزدہ کیا جائے۔تو اس کی گو شمالی کی جائے۔خواہ وہ پولیس ہو یا کوئی اور سرکاری عہدیدار ہو یا رعایا میں سے کوئی شخص !! تعلیم کے متعلق کمیشن کی سفارشات منظور کرتے ہوئے ابتدائی تعلیم کی توسیع ، عربی کے اساتذہ کی تعداد اسلامی وظائف کی مقدار اور محکمہ تعلیم کے مسلمان انسپکٹروں میں اضافہ کے احکام دیئے اور مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے ایک خاص انسپکٹر کے تقرر کا فیصلہ کیا۔مسلمانوں کا ایک نہایت اہم مطالبہ یہ تھا کہ زمینداروں کو حقوق مالکانہ دیئے جائیں۔جو تسلیم کر لیا گیا۔اور جموں، سائیہ اکھنور کھٹولہ ، جیمر گڑھ، میر پور اور بھمبر کی تحصیلوں سے کاہ چرائی کا ٹیکس عارضی طور پر اڑا دیا گیا۔دھاروں میں جو مزید ٹیکس وصول کیا جاتا تھا وہ بھی اڑا دیا گیا۔اخروٹ کے درخت کاٹنے پر پابندی بھی ختم کر دی گئی، محکمہ جنگلات، پولیس اور مال وغیرہ میں بھی نئی اصلاحات جاری کی گئیں اور یکرڈالوں پر ٹیکس میں تخفیف کر دی گئی۔* آزادی تقریر و تحریر سے متعلق اعلان کیا کہ ریاست میں جلد از جلد وہی قانون رائج ہو۔جو برطانوی ہند میں رائج ہے۔مالیہ کی شرح برطانوی علاقہ کے مطابق کرنے کے مطالبہ کی معقولیت تسلیم کر لی گئی ریاست کے افسروں اور مہاراجہ کو رائے عامہ سے آگاہ کرنے اور ریاست کی قانون سازی اور حکام کے اعمال پر تنقید کرنے اور رعایا کو شامل کرنے کے لئے مسٹر گلانسی کی زیر صدارت اصلاحاتی کانفرنس نے ریاست میں آئین ساز اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی۔چنانچہ اس کی عملی تشکیل کے لئے مہاراجہ نے ایک فرنچائز کمیٹی قائم کر دی اور ۱۹۳۴ء میں اسمبلی کا قیام ہوا۔اس کے علاوہ بیگار جنگلات ، رکھ کٹم 'دھڑت ، محکمہ تعمیرات عامہ میونسپلٹی ، محکمہ طبی ، ذبیحہ شادی صغرسنی سے متعلق مراعات کا اعلان کیا گیا۔اور ریاستی مطابع کو برطانوی ہند کے مطابق بنانے کے لئے ایک نیا ترمیم شدہ قانون جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس بارے میں احکام بھی جاری کر دیئے گئے۔