تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 524
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 512 تحریک آزادی کشمیر اء رجماعت احمدیہ کشمیر نے بھی اس کے متعدد قانون عملاً منسوخ اور کالعدم کر رکھے ہیں۔بلکہ کشمیری پنڈت منو کے خلاف مطالبات کر رہے ہیں۔ان کتابوں کی قوت و ہیبت کا حکام ریاست پر یہ اثر تھا کہ انہوں نے یہ دونوں کتابیں ضبط کر لیں۔اور ہدایت جاری کر دی کہ جس شخص کے پاس ان کا کوئی نسخہ پایا جائے گا اسے چھ ماہ قید اور سو روپیہ جرمانہ کی سزادی جائے گی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نظر ثانی گلانسی کمیشن کا کام اختتام پذیر ہوا۔تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے گلانسی کمیشن کے مسودہ اصلاحات پر مسلم مطالبات کے تحفظ کے لئے آخری کوشش یہ فرمائی کہ کمیشن کے مسودہ اصلاحات پر احتیاطاً خود بھی نظر ثانی کر کے مسلم زعماء کو مفید مشورے دیئے۔چنانچہ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں۔”حضور نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اصلاحات کے مسودے میں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی شقیں شامل کر دی جائیں جن سے کشمیری مسلمانوں کے حقوق کو نقصان پہنچے۔اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان ممبروں کے دستخط ہونے سے پہلے وہ مسودہ اصلاحات حضور کی نظر سے گزر جائے۔یہ کام بہت مشکل تھا۔کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ مسٹر کلینسی اور ان کی بیوی مسودہ اصلاحات خود ٹائپ کرتے ہیں اور اپنی صند و چی میں اسے مقفل رکھتے ہیں۔ممبران کو بلا کر تبادلہ خیال کرتے ہیں ان سے اپنے سامنے ہی دستخط کروائیں گے۔اور رپورٹ بالا بالا بھیج دیں گے۔ان کا یہ طریق عمل میرے لئے مایوس کن تھا۔لیکن سیدھی سادی تدبیر سے بغیر اس کے کہ سرقہ کی صورت ہو۔تیار کردہ رپورٹ جس پر دستخط ہونے تھے آگئی۔راتوں رات وہ ٹائپ کروائی اور میں وہ لے کر قادیان پہنچ گیا۔حضور نے اس میں اصلاحات فرما ئیں اور تیسرے دن میں اور درد صاحب مرحوم دونوں مسودہ کو جموں لے آئے اور مسٹر عباس اور مسٹر اشائی کو ضروری مشورہ دیا گیا۔اور یہ ممبر بہت ہی ممنون ہوئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو کشمیریوں کی بہبود کا اتنا خیال تھا کہ حضور نے اصلاح شدہ مسودے کی دو کا پیاں ٹائپ کروا ئیں۔ایک ایک کاپی دونوں کو دے دی گئی۔کہ ہم میں سے اگر ایک گرفتار ہو جائے تو دوسرا مسلمان ممبران کمیشن کو پہنچا دے"۔مڈلٹن کمیشن کی رپورٹیں منٹ کمیشن اور گانی کمیشن سے متعلق جماعت احمد یہ کی عظیم الشان خدمات کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم مڈلٹن کمیشن کی رپورٹ کی طرف آتے ہیں۔ابتد اعمد لٹن کمیشن کا خلاصہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے شائع کیا تھا۔جسے دیکھ کر مسلمانان کشمیر اور کشمیر