تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 29 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 29

تاریخ احمدیت جلد ۵ 29 خلافت تا می ماند رواں سال (فصل دوم) مسیرت النبی" کے بابرکت جلسوں کا انعقاد ۱۹۲۸ء کا نہایت مہتم بالشان اور مجالس سیرت النبی کی تجویز اور اس کا پس منظر تاریخ عالم میں سنہری حروف سے " لکھے جانے کے لائق واقعہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھوں سیرت النبی کے جلسوں کی بنیاد ہے جس نے بر صغیر ہند و پاک کی مذہبی تاریخ پر خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔اور جواب ایک عالمگیر تحریک کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔اللہ تعالی نے اس اہم تحریک کی تجویز حضور کے دل میں ۱۹۲۷ء کے آخر میں اس وقت القا فرمائی۔جبکہ ہندوؤں کی طرف سے کتاب ”رنگیلا رسول اور رسالہ " ورتمان" میں آنحضرت کی شان مبارک کے خلاف گستاخیاں انتہا کو پہنچ گئیں۔اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی نہایت خطر ناک شکل اختیار کر گئی۔حضور نے اس مرحلہ پر آنحضرت ا کی ناموس و حرمت کی حفاظت کے لئے ملکی سطح پر جو کامیاب مہم شروع فرمائی۔اس کی تفصیل پچھلی جلد میں گذر چکی ہے۔یہ مہم اسلامی دفاع کا ایک شاندار نمونہ تھی۔جس نے نہ صرف مخالفین اسلام کی چیرہ دستیوں کا سد باب کرنے میں مضبوط دیوار کا کام دیا۔بلکہ نبی کریم ﷺ کے نام لیواؤں کو عشق رسول کے عظیم الشان جذبہ سے ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر دیا۔مگر حضور کے مضطرب اور درد آشنا دل نے اسی پر قناعت کرنا گوارا نہ کیا۔اور آپ سب و شتم کی گرم بازاری کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب تک آنحضرت ا کی مقدس زندگی کے حالات اور آپ کے عالمگیر احسانات کے تذکروں سے ہر ملک کا گوشہ گوشہ گونج نہیں اٹھے گا۔اس وقت تک مخالفین اسلام کی قلعہ محمدی پر موجودہ یورش بدستور جاری رہے گی۔اور دراصل یہی خیال تھا۔جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپ نے "سیرت النبی کے جلسوں کی تجویز فرمائی۔چنانچہ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں کو آپ پر (یعنی آنحضرت رسول کریم ﷺ پر ناقل) حملہ کرنے کی جرات اسی لئے ہوتی ہے۔کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں۔یا اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے