تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 28 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 28

تاریخ احمدیت جلد ۵ 28 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال جامعہ احمدیہ کی زندگی کے تیسرے دور کا آغاز ہوا۔اوائل ۱۹۴۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی جامعہ احمدیہ کی طرف خاص توجہ فرمائی اور جماعت کو وقف زندگی کی تحریک کی۔جس پر کئی مخلص نوجوانوں نے لبیک کہا۔اور میٹرک پاس طلباء کے لئے جامعہ احمدیہ میں ایک سپیشل کلاس جاری کی گئی۔اس کے علاوہ دوسرے طلباء میں بھی اضافہ ہوا۔اور جامعہ احمدیہ میں زندگی کی ایک نئی روح پیدا ہوئی۔جامعہ احمدیہ اور اس کا ہوسٹل محلہ دارالا نوار کے نئے گیسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا۔اور طلباء کو رہائش کی سہولتیں میسر آئیں۔یہ ادارہ ترقی کی منازل طے کر رہا تھا کہ تقسیم ہند کا سانحہ پیش آگیا۔اور اس کے اساتذہ و طلباء • انو مبر ۱۹۴۷ء کو کانوائے کے ذریعہ قادیان سے لاہور آگئے۔ا جہاں نئی صورت حال کے پیش نظر مدرسہ احمد یہ اور جامعہ احمدیہ کا مخلوط ادارہ جاری ہوا۔جس کے پرنسپل بھی آپ ہی مقرر ہوئے۔اور یکم جولائی ۱۹۵۳ء تک اس ادارہ کو کامیابی سے چلانے کے بعد پر نپل کی حیثیت سے جامعتہ المبشرین میں منتقل ہو گئے۔جامعہ احمدیہ کے دور ثالث اور اس سے نکلنے والے علماء و مبلغین کا مفصل تذکرہ تو انشاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔مگر یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ اس دور کے تعلیم پانے والوں میں صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا او سیم احمد صاحب سید مسعود احمد صاحب اور سید محمود احمد صاحب ناصر بھی شامل ہیں۔سفر لاہور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی جون ۱۹۲۸ء کے پہلے ہفتہ میں لاہور تشریف لے گئے۔آپ کے حرم ثالث حضرت سارہ بیگم صاحبہ بنت حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ عبد السلام صاحب (ابن حضرت خلیفہ اول) ادیب فاضل وغیرہ کا امتحان دے رہے تھے اور یہ سفر اسی سلسلہ میں تھا۔