تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 519
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 507 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه جو نبی میں ادھر ادھر جاتا ہوں کام تمام کا تمام بگڑتا ہے۔میں جناب سے التجا کروں گا کہ کم از کم اخراجات دفتر کا انتظام فرما کر میری طرف سے مولانا در و صاحب مولانا غزنوی صاحب و دیگر کارکنان کی خدمت میں مودبانہ عرض السلام میں ہوں جناب کا تابعدار دستخط شیخ محمد عبد الله ( بحروف انگریزی - ناقل) خط تبدیلی مذہب اور گاؤ کشی سے متعلق قوانین کی فراہمی اس علا کے پینے پر کشمیر کمیٹی نے کلینسی کمیشن کے لئے مطلوبہ مواد مہیا کر کے بھیجوا دیا اور بھوپال ، رامپور جے پور حیدر آباد میسور بھرت پور بیکانیر، پٹیالہ بڑودہ ، بہاولپور مالیر کوٹلہ اور کپور تھلہ کے وزرائے اعظم سے خط و کتابت کی اور ان کے قوانین وراثت حاصل کر کے شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو بھیجوائے اور ریاستوں سے جواب آتے ہی مسٹر گلینسی کو لکھا کہ معلوم ہوا ہے ریاست کے بعض حکام سمجھتے ہیں کہ تبدیلی مذہب سے محرومی دراشت کا قانون تمام ہندوستانی ریاستوں میں موجود ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ہم نے مختلف ریاستوں سے تحقیق کی ہے پرائم منسٹریکا نیر اور پولیٹیکل سیکرٹری بڑودہ نے نہیں اطلاع دی ہے کہ ان کے یہاں یہ قانون منسوخ ہو چکا ہے (مراسلہ مورخہ ۵ / مارچ ۱۹۳۲ء) ان کے علاوہ جے پور میسور وغیرہ سے بھی اس قانون کی تنسیخی کا جواب آیا۔رامپور اور پٹیالہ سے مکتوب ملا کہ قانون وراثت سے متعلق فیصلے ہر فرقہ کے عقیدہ و قانون کے مطابق کئے جاتے ہیں تبدیلی پر محرومی وراثت کی کوئی دفعہ موجود نہیں۔جناب شیخ عبدالحمید زعمائے کشمیر حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں صاحب ایڈووکیٹ جموں کا بیان ہے کہ مسلم مطالبات کے سلسلہ میں یہ مشکل پیش آئی کہ جب ہم نے حکومت کشمیر سے مسجدیں واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔تو ہندوؤں نے قدیم مندر کی (جو مسجدوں میں تبدیل ہوئے ہیں) واپسی کا مطالبہ کیا۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ہم نے مرزا بشیر الدین محمود احمد کی طرف رجوع کیا۔آپ نے نمائندوں کو وزیر آباد بلایا۔چنانچہ میں اور قاضی گوہر رحمان صاحب اور شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور مستری یعقوب علی صاحب آپ سے وزیر آباد آکر ملے۔اور آپ کی ہدایات کے مطابق ہم نے یہ جواب جاکر گلینسی کے سامنے دیا کہ مساجد ہم حکومت کشمیر سے واپس مانگ رہے ہیں نہ کہ کسی فرقہ کے قبضہ سے اور ہندوؤں کا جو سوال ہے وہ ان مقامات کے متعلق ہے جو صدیوں سے ان بزرگوں کے مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں کے قبضہ میں چلے آتے ہیں ایسی جائیداد کو واپس لینے کے لئے جو کسی دوسرے فرقہ کے قبضہ میں ہو انہیں عدالت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔۔۔۔جب ہم نے یہ جواب پیش کیا تو فریق مخالف کا منہ بند ہو گیا -