تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 505
تاریخ احمدیت۔جلدة 493 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ پہنچی ہے اور میں اپنی رعایا کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمیشہ میری یہ خواہش رہی ہے اور میری حکومت کی حکمت عملی (پالیسی) رہی ہے کہ ریاست کی آبادی کے ہر گروہ کو مکمل ترین آزادی حاصل ہو کہ وہ جس مذہب کی پابند ہو وہ اس مذہب پر عمل پیرا رہ سکے میری خواہش یہ ہے کہ اس معاملہ کے متعلق جو غلط فہمی ابھی موجود ہے فی الفور رفع ہو جائے۔اور اس پالیسی کے نفاذ میں ماتحت حکام سے جو غلطی بھی سرزد ہو وہ ظاہر کی جائے اور اس کا ازالہ کیا جائے۔گلانسی کمیشن کا ذکر میری درخواست پر بیرون ریاست سے ایک غیر جانبدار افسر کی خدمات حکومت ہند نے میرے سپرد کی ہیں۔مدعا یہ ہے کہ یہ افسران شکایات کی تحقیقات کرے۔جو اس وقت موجود ہیں اور ان کے ازالہ کے لئے سفارشات مرتب کرے۔جس افسر کو میں نے اس غرض سے منتخب کیا ہے ان کا نام مسٹر جے۔بی گلانسی صاحب کی۔آئی۔اسی ہے۔ان صاحب کو اہل کشمیر سے متعارف کرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔اس لئے کہ آج سے چند ہی سال قبل انہوں نے غلہ کے انضباط کے طریق کار کے متعلق ریاست اور اہل ریاست کی جو بیش بہا خدمات کی تھیں وہ سب کو خوب معلوم ہیں غلہ کے متعلق ہر قسم کا کام کرنے والوں کو پہلے جن مشکلات سے سابقہ پڑتا تھا وہ خوش قسمتی سے رفع ہو گئی تھیں۔اور ان کے رفع ہونے سے سب کو آرام اور نفع حاصل ہوا تھا جس کے لئے ہم ان تدابیر کے ممنون ہیں جو میری حکومت نے مسٹر گلانسی کے مشورہ کے بعد اختیار کی تھیں۔لہذا مجھے امید اور یقین ہے کہ مسٹر گلائسی کو میری رعایا کا اعتماد حاصل ہو گا۔اور کہ میری رعایا کی تمام جماعتیں اس کام میں جو مسٹر موصوف کو درپیش ہے ان کا ہاتھ بٹائیں گی۔پرامن فضا کی ضرورت: میری ہدایات کے مطابق مسٹر گلائسی نے مختلف فرقوں کے نمائندوں سے تبادلہ خیالات کیا۔اور ان کے ساتھ موجودہ حالت کی ہر صورت پر نہایت صفائی سے بحث کی۔ان کا مدعا یہ تھا کہ پر امن فضا پیدا ہو جائے۔اس لئے کہ تحقیقات کے کامیابی سے پورا ہونے کے لئے ایسی فضا کا وجود ناگزیر ہے۔مسٹر گلانسی کے مددگار: اس تحقیقات میں مسٹر گلانسی کے چار غیر سرکاری آدمی مددگار ہوں گے جن میں سے دو مسلمان اور دو ہندو ہوں گے ان چار آدمیوں کو ان کی قوموں کے مصدقہ نمائندوں نے نامزد کیا ہے لہذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ اپنی اپنی قوم کے مفاد کے نہایت مناسب اور پورے پورے نمائندہ ہیں۔شکایات کی تحقیقات: اس کمیشن کا پہلا کام یہ ہو گا۔کہ یہ میری ریاست میں کسی جماعت کا جو مذہب ہو اسی مذہب کی آزادانہ پیروی میں جو حالات یا واقعات کسی طرح بھی حائل ہوں ان کے