تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 27 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 27

تاریخ احمدیت جلد 27 خلافت ثانیہ کا چند رھواں سال حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے بعد مئی ۱۹۳۹ء میں جامعہ احمدیہ کادور ثانی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے پر نسپل مقرر ہوئے اور جامعہ کا دوسرا دور شروع ہوا۔آپ کے زمانہ میں بھی امتحان مولوی فاضل کے نتائج بہت اچھے رہے مگر لوگوں کے اس عام رجحان کی وجہ سے کہ دینی تعلیم پر دنیاوی تعلیم کو فوقیت حاصل ہے مبلغین کلاس میں داخل ہونے والے طلباء کی تعداد میں کمی آگئی۔آپ کے دور میں جامعہ کے اندرونی نظام میں بعض اصلاحات بھی ہو ئیں مثلاً تقریروں کی مشق کے لئے ایک مجلس طلباء بنائی گئی۔لائبریری جامعہ احمدیہ کی کتابیں از سر نو مرتب کر کے دو حصوں میں تقسیم کی گئیں۔ایک حصہ میں نصاب کی کتابیں اور دوسرے میں کتب سلسلہ کے لئے دوسرا علمی اور ادبی لٹریچر رکھا گیا۔اس کے علاوہ دار الاقامہ میں بھی ایک لائبریری قائم ہوئی۔10 دور ثانی میں تعلیم پانے والے علماء آپ کے زمانہ میں جن علماء و مبلغین نے اکتاب علم ۱۹۴۱ء ۶۱۹۴۳ کیا ان میں سے بعض قابل ذکر یہ ہیں مولوی غلام باری صاحب سیف ( تاریخ ولادت یکم اکتوبر ۱۹۲۰ء) مولوی جلال الدین صاحب قمر ( تاریخ ولادت ۵ / مئی ۱۹۲۳ء) شیخ نصیر الدین احمد صاحب ( تاریخ ولادت ۱۵ / مارچ ۱۹۲۳ء) حافظ بشیر الدین صاحب ( تاریخ ولادت ۴ / اکتوبر ۱۹۲۲ء) مولوی محمد منور صاحب ( تاریخ ولادت ۱۳ / فروری ۱۹۲۳ء) ملک مبارک احمد صاحب ( تاریخ ولادت (۱۹۲۲ء) مولوی خورشید احمد صاحب شاد ( تاریخ ولادت ۲۴ / ستمبر ۱۹۲۰ء) مولوی محمد عثمان صاحب ( تاریخ ولادت ۱۰ / جون ۱۹۲۲ء) مولوی بشارت احمد صاحب امروہوی ( تاریخ ولادت ۸ / اگست ۱۹۱۷ء) مولوی بشارت احمد صاحب بشیر ( تاریخ ولادت ۱۰ جون ۱۹۲۳ء) مولوی محمد زہدی صاحب ( تاریخ ولادت ۷ / نومبر ۱۹۱۸ء) صوفی محمد اسحاق صاحب ( تاریخ ولادت یکم مارچ ۱۹۲۳ء) صاجزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مئی ۱۹۴۴ء میں تعلیم جامعہ احمدیہ کے دور ثالث کا آغاز الاسلام کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور ۲۴ مئی ۱۹۴۴ء کو مولانا ابو العطاء صاحب فاضل جالندھری نے جامعہ احمدیہ کا چارج سنبھال لیا۔اس طرح