تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 502 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 502

تاریخ احمدیت جلد ۵ 490 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ مہاراجہ کی طرف سے ابتدائی اس تار پر ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ مہاراجہ صاحب کشمیر نے رعایا کو ۱۲/ نومبر حقوق دیئے جانے کا اصولی اعلان ۱۹۳۱ء کو ابتدائی انسانی حقوق دینے کا مفصل اور پتھر مسجد کی واگزاری! اعلان جاری کر دیا۔جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور تحریک آزادی کشمیر کی پہلی شاندار فتح تھی۔حالانکہ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شروع شروع میں حکومت ہند ریاست کشمیر کے معاملہ میں مداخلت کرنے سے گریز کرتی تھی لیکن اس کے بعد اللہ تعالٰی نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی حکمت عملی فہم و تدبر اور آئینی جدوجہد کے نتیجہ میں تحریک آزادی کو ایسی طاقت حاصل ہو گئی کہ ایک طرف وائسرائے ہند کو دخل دینا پڑا دو سری طرف کشمیر گورنمنٹ کو جھکنا پڑا اور اس نے دوبار حضور کو پیغام بھیجا کہ آپ جموں آئیں اور مہاراجہ صاحب سے مل کر فیصلہ کرلیں۔آپ کی گفتگو کے بعد جن حقوق کے متعلق اتفاق ہو گا۔وہ کشمیر کے مسلمانوں کو دے دیئے جائیں گے حضور نے جواب دیا کہ میرے فیصلے کا کوئی سوال نہیں کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ فیصلہ کشمیر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں۔میں نہیں کر سکتا۔میں نہیں چاہتا کہ میں آؤں اور آپ سے باتیں کر کے کچھ فیصلہ کرلوں۔بلکہ میں چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کے حقوق کا سوال ہے ان کے نمائندوں کو بات کرنے کا موقعہ دیا جائے۔بالآخر وزیر اعظم کشمیر ہری کشن کول نے پیغام بھیجا کہ " آپ اپنے نمائندے بھجوائیں جن سے وقتا فوقتا بات چیت کی جاسکے جس پر حضور نے مولوی عبدالرحیم صاحب در وایم۔اے اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی کو بطور نمائندہ بھیجوا دیا - ۱۰ / دسمبر ۱۹۳۱ء کو وزیر اعظم ریاست کشمیر کے پرائیویٹ سیکرٹری جیون لعل نے پرائیوٹ سیکرٹری (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) کو مندرجہ ذیل خط لکھا۔تعلیم! آپ کا گرامی نامه مورخه ۳/ نومبر ۱۹۳۱ء جناب حضور والاشان پرائم منسٹر صاحب بہادر کے ملاحظہ سے گزرا۔مختصر اجواب عرض کرتا ہوں کہ ابتداء سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانان کشمیر کو ابتدائی جائز حقوق دینے میں بے حد جلدی کی جاوے۔اور خاص طور پر گزشتہ ایک ہفتہ سے تو شب و روز سوائے اس کام کے پرائم منسٹر صاحب کسی دوسرے کام کی طرف متوجہ نہیں البتہ دو تین روز کے لئے جموں کے واقعات نے مجبور کیا۔کہ وہاں پرائم منسٹر صاحب خود تشریف لے جائیں۔جموں کے واقعات نے جس کے ذمہ دار احرار ہیں۔معالمہ مطالبات کو قدرے التوا میں ڈال دیا۔اور صدر صاحب کے ساتھ گفت و شنید یا خط و کتابت میں بھی دیر محض اسی وجہ سے ہوئی۔۔۔۔۔علاوہ بریں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نمائندگان نے مقیمی سرینگر عبد الرحیم صاحب در داور مولانا اسمعیل غزنوی صاحب