تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 501 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 501

تاریخ احمدیت جلد ۵ 489 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مولانا درد نے جواب دیا کہ ہم تو ان کے مہمان ہیں جنہوں نے ہمیں بلوایا ہے اس نے بہتیرا زور مارا لیکن محترم در دو صاحب نے نہ مانا تھا نہ مانے۔اور ہم چیکنگ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اپنی کرایه والی کا رہی پر امیرا کدل پہنچے۔شیخ محمد عبد الله ( صاحب) اور ان کے رفقاء استقبال کے لئے موجود تھے سب بہت خوشی سے ملے۔ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔میں نے آتے ہی اپنے کمرہ میں دفتر لگایا۔ہم دفتر کا تمام ضروری سامان ٹائپ رائٹر وغیرہ ساتھ لے گئے تھے۔یہ وہ تاریخی ٹائپ رائٹر تھا۔جس نے کشمیریوں کی امداد میں لاکھوں لفظ ٹائپ کئے۔اور ان کا تاریخی میموریل بھی اس پر ٹائپ ہوا۔جو مہاراجہ کو پیش کیا گیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے لمبے اور گہرے مطالعہ اور نمائندگی کشمیر کے مشورہ سے مطالبات کا جو مسودہ انگریزی زبان میں تیار کیا تھاوہ ان کے سپرد اس غرض سے کر دیا گیا کہ اس پر پورے گیارہ نمائندے پھر غور کریں اور اگر کسی جگہ ترمیم کی ضرورت سمجھیں تو کریں۔۔۔۔کئی گھنٹہ کے غور و فکر کے بعد نمائندگان کشمیر نے اس میں کسی کسی جگہ ترمیم کی۔البتہ ان ترمیموں کی صرف زبان مولانا یعقوب خان صاحب ایڈیٹر لائٹ (LIGHT) لاہور اور مولانا درد صاحب نے درست کی۔جب اس مسودہ پر سب نمائندگان کو شرح صدر ہو گیا تو وہیں راقم الحروف نے اسے ٹائپ کیا اور رات گئے یہ کام ختم ہوا۔دوسرے دن۔۔۔۔پھر خور ہو تا رہا۔چند الفاظ کی کمی و بیشی ہوئی۔اور اس کے بعد میں نے اس مسودہ کو آخری شکل میں ٹائپ کر دیا۔اور اس ٹائپ شدہ میموریل کی ایک کاپی (بطور ایڈوانس) ای روز اور دوسری کاپی ۱۹ / اکتوبر ۱۹۳۱ء کو حسب پروگرام نمائندگان نے خود مہاراجہ کے سامنے جا کر پیش کی۔مہاراجہ کشمیر نے مظالم کی حضرت خلیفہ المسی الثانی کا تار مہاراجہ کشمیر کے نام تحقیقات کے لئے جو "ولال کمیشن مقرر کیا تھا اس نے سراسر جانبدارانہ رپورٹ کی جس پر ریاست کے بدعنوان افسروں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور جموں میں فوج نے درجنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔جموں سے یہ خبر ملنے پر حضور نے نومبر کے آغاز میں مہاراجہ کشمیر سے بذریعہ تار اپیل کی کہ وہ اپنی رعایا اور احراری جتھوں کو جو سیاسی جرائم میں گرفتار اور سزا یاب ہوئے رہا کر دیں۔دلال رپورٹ کو منسوخ کر دیں اور تمام فسادات کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد کمیشن مقرر کیا جائے۔کمیشن کا صد رہا ہر کے ہائی کورٹ کا غیر جانبدار حج ہو۔جس کو حکومت ہند مقرر کرے اور اس میں مسلمانوں کی کافی نمائندگی ہو۔نیز نومبر کے آخری ہفتہ تک مسلمانوں کی شکایات کا ازالہ اور ابتدائی حقوق کے متعلق اعلان کر دیا جائے - 1