تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 500
جلد ۵ 488 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ عین اس وقت جبکہ جنگ آزادی مہاراجہ صاحب حضرت خلیفہ المسیح کا ایک اہم اعلان تشہیر کے اعلان کے بعد ایک اہم مرحلہ میں داخل ہو گئی امام جماعت احمدیہ کو یہ اطلاعات پہنچیں کہ بعض حلقے یہ پراپیگنڈا بھی کر رہے ہیں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پردہ میں تبلیغ احمدیت کی جارہی ہے۔اس پر حضور نے مندرجہ ذیل اہم اعلان لکھا جو انقلاب ۷ / اکتوبر ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا۔"میرے نزدیک ایسا فعل یقینا بد دیانتی ہے۔لیکن اللہ تعالٰی کے فضل سے ہم اس بد دیانتی سے محفوظ ہیں۔میں اس انکار کے ساتھ سب احمدیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کشمیر کی خدمت ایک انسانی ہمدردی کا فعل ہے اس نیکی کو کسی ایسی غلطی سے جو بد دیانتی کا رنگ رکھتی ہو خراب نہ کریں اور دوسرے مسلمانوں سے مل کر پوری تندہی سے خالص بر اور ان کشمیر کے نفع کو مد نظر رکھ کر سب کام کریں"۔مہاراجہ کے سامنے مسلم وفد کے مطالبات آل ال یا شیر کملی نے جلاس سیالکوٹ میں انڈیا فیصلہ کیا تھا کہ مسلمانان ریاست جلد از جلد اپنے مطالبات پیش کر دیں اس فیصلہ کے بعد خود مہاراجہ نے اپنی سالگرہ کے موقعہ پر مطالبات پر غور کرنے کا اعلان کر دیا تھا لہذا ضرورت تھی کہ فوری طور پر مسلمانوں کا ایک وفد مہاراجہ کے سامنے مطالبات پیش کر دے۔چنانچہ مسلمانان جموں وکشمیر کے نمائندگان (جناب مستری یعقوب علی صاحب اور چوہدری عباس احمد صاحب نے) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی خدمت میں حاضر ہو کر مشورہ کیا ازاں بعد مسودہ مطالبات تیار کیا گیا اور مشہور زعمائے کشمیر نے اس پر کافی غور و بحث کی اور اسے آخری اصطلاحی اور قانونی شکل دینے کی غرض سے شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے حضور کو تار دیا۔کہ اپنے ذمہ دار نمائندوں کو کشمیر بھجوائیں۔تادہ آخری شکل دے کر مہاراجہ کے سامنے پیش کر سکیں۔یہ بار قادیان میں ۱۴/ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو پہنچا چنانچہ حضور کی ہدایت پر مولوی عبد الرحیم صاحب ورد مولوی محمد یعقوب خان صاحب ایڈیٹر اخبار " لائٹ" (لاہور) مولوی عصمت اللہ صاحب اور چوہدری ظهور احمد صاحب سرینگر پہنچ گئے۔چوہدری ظہور احمد صاحب کا بیان ہے۔"ہم سرینگر کی چیکنگ پوسٹ پر پہنچے تو ریاست کا ایک سیکرٹری کار لے کر موجود تھا۔مولانا عبد الرحیم درد کے متعلق دریافت کر کے ان سے ملا اور درخواست کی کہ آپ لوگوں کی رہائش کا انتظام ریاست کے بڑے گیسٹ ہاؤس میں ہے۔اور میں کار لے کر آپ کو لینے کے لئے آیا ہوا ہوں۔وزیر اعظم صاحب نے مجھے بھجوایا ہے۔