تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 498
تاریخ احمدیت جلده 486 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به سرینگر اور مضافات میں مسلح بغاوت کی۔اس پر حکومت نے ۲۶/ ستمبر۱۹۳۱ء کو ۱۹۔ایل اور مارشل لاء بر ما آرڈنینس جاری کر دیا۔تحریک آزادی کے لئے مسلسل قربانی کی تحریک مہاراجہ کشمیر اور ان کے افسروں کی اس عہد شکنی نے عارضی صلح نامہ کو خود بخود چاک کر دیا۔اور اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ ان مظالم سے یہ تحریک کہیں دب ہی نہ جائے۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اہل کشمیر اور مسلمانان ہند دونوں کو تحریک آزادی کے لئے مسلسل قربانی کی پر جوش تحریک فرمائی کہ ”میرے نزدیک اپنی اور اپنی ملک کی سب سے بڑی خدمت یہ ہوگی کہ ہر باشندہ کشمیر جو آزادی کی خواہش رکھتا ہے یہی ارادہ کرلے کہ خواہ میری ساری عمر آزادی کی کوشش میں خرچ ہو جائے میں اس کام میں اسے خرچ کر دوں گا اور آگے اپنی اولاد کو بھی یہی سبق دوں گا۔کہ اس کوشش میں لگی رہے اور اسی طرح قربانی کے متعلق ہر ایک شخص کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آزادی جیسی عزیز شے کے لئے جو کچھ بھی مجھے قربان کرنا پڑے میں قربان کر دوں گا۔اگر اس قسم کا ارادہ رکھا جائے گا تو لازماً درمیانی مشکلات معمولی معلوم ہوں گی اور ہمت بڑھتی رہے گی"۔ریاست کو کشمیر کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جارہا تھا اس ضمن میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلمانان ہند کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور ایسی تدابیر رکھیں جن سے بائیکاٹ کی سکیم کو ناکام بنانے میں مدد مل سکتی تھی۔• :