تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 478 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 478

تاریخ احمدیت جلد ۵ 466 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی۔اس لئے جب اس نے دیکھا کہ اسے یہ مقصد حاصل نہیں ہوا اور وہ انسان جس کی تقریر سننے کے لئے ہزار ہا انسان جمع ہوئے ہیں۔مردانہ وار جلسہ میں آگیا ہے تو اس ٹولی نے اپنی کمینگی اور شرارت کا انتہائی مظاہرہ کرنا اور بہت زیادہ زور اور شدت کے ساتھ پتھر برسانا شروع کر دیئے چونکہ تمام احمدی اکٹھے اسٹیج کے ارد گرد بیٹھے تھے اس لئے فتنہ پرداز ٹولی کا نشانہ وہی بنے۔اس وقت احمدیوں نے جناب صدر کے ارد گرد حلقہ بنالیا اور چھتریاں تان لیں مگر پتھروں کا اس قدر زور تھا کہ باوجود اس کے تین پتھر جناب صدر کے ہاتھوں پر آکر لگے اور احمدی تو شاید ہی کوئی ایسا ہو کہ جسے چوٹ نہ آئی ہو۔پچیس تیس کے قریب احمدیوں کو تو شدید زخم آئے اور ان کے کپڑے خون سے تر بتر ہو گئے۔احمدیوں کو سخت چوٹیں آئیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ ظالم اور سفاک فتنہ پرداز چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی سخت زخمی کر رہے تھے۔لیکن باوجود اس کے ایک بھی احمدی نہ تو اپنی جگہ سے ہلا اور نہ کسی قسم کا اضطراب ظاہر کیا۔تمام احمد ی جناب صدر کے ساتھ نہایت مردانگی اور حوصلہ کے ساتھ پتھر کھا کر وقار اور استقلال کا ثبوت پیش کرتے رہے اور ہر لحظہ اللہ اکبر اور اسلام زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔پتھروں کا سارا زور جناب صدر کے ارد گرد تھا کیونکہ بد باطن ٹولی آپ کو گزند پہنچانا چاہتی تھی اور آپ خطرہ کے منہ میں تھے۔چنانچہ باوجود خدام کی جان نثارانہ حفاظت کے تین دفعہ آپ پر پتھر آکر پڑے۔مگر جب اس خطرہ کو دیکھ کر منتظمین جلسہ نے آپ کو مشورہ دیا کہ یہاں سے ہٹ جانا چاہئے تو آپ نے نہایت جوش کے ساتھ اسے رد فرما دیا اور خطرہ کی کوئی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے تقریر کئے بغیر جانے سے انکار کر دیا اگر چہ ساری شرارت آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے کی گئی تھی لیکن آپ کی معجزانہ طور پر حفاظت ہوئی اور بد ظن لفنگے سخت ناکام رہے۔غرض جب پتھروں کی بارش پورے زور پر تھی تو احمدیوں کے کسی ایک بچہ نے بھی خطرہ کو محسوس کر کے اپنی جگہ سے ہلنے کی ضرورت نہ سمجھی تمام لوگ نہایت صبر و سکون کے ساتھ پتھر کھاتے اور نعرہ تکبیر بلند کرتے رہے۔یہ حالت ایک گھنٹہ سے زیادہ تک جاری رہی اس دوران میں ۲۵-۳۰ احمدی ایسے شدید طور پر مجروح ہوئے جنہیں ہسپتال پہنچانا ضروری ہو گیا۔چنانچہ انہیں موٹر میں بٹھا کر ہسپتال لے جانے کا انتظام کیا گیا اور مہذب دنیا یہ سن کر سیالکوٹ کے ان غنڈوں کی کمینگی پر ماتم کرے گی که ان مدعیان شجاعت و بسالت نے زخمیوں سے بھری ہوئی موٹر پر بھی پتھر برسائے اور اس کے شیشے وغیرہ توڑ ڈالے۔اتنے لمبے عرصہ تک ہنگامہ خیزی اور فساد انگیزی کے باوجود پولیس کی گارد جو جلسہ سے قبل ہی وہاں آچکی تھی کہیں نظر نہ آتی تھی اور اس نے فتنہ پردازوں کی حد سے بڑھتی ہوئی شرارتیں دیکھنے کے باوجود انہیں روکنے کی قطعا کوئی کوشش نہ کی۔گویا اس کا وجود اور عدم وجود برابر تھا۔اخبار