تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 475 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 475

احمدیت جلد ۵ 463 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ وزیر ہند سے ملاقاتیں کیں۔وزیر ہند نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے وعدہ کیا کہ وہ خود بھی اس معاملہ میں توجہ کریں گے۔اور حکومت ہند کو بھی توجہ دلائیں گے۔اس کے بعد وائسرائے ہند کے پرائیوٹ سیکرٹری نے صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو تار دیا کہ حکومت ہند اس بارے میں ریاست سے خط و کتابت کر رہی ہے۔یہ پرو پیگنڈہ شروع ہوتے ہی ریاست کو فکر پڑ گئی اور اس نے قریباً چھ سو رد پیہ ماہوار تنخواہ پر لنڈن میں ایک ایجنٹ مقرر کر دیا۔تا اس پراپیگنڈا کا اثر زائل کر کے برطانوی اخبارات کو ریاست کے حق میں لکھنے پر مائل کرنے مگر خدا کے فضل سے یہ سازش ناکام رہی۔جناب چوہدری غلام عباس صاحب نے بھی اپنی سوانح عمری "کشمکش " میں تحریر فرمایا ہے۔" آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی معرفت ہماری شکایات سمندر پار کے مسلمانوں میں بھی زبان زد ہر خاص د عام ہو گئیں۔اس نزاکت حال کے پیش نظر حکومت کشمیر کے لئے ہماری شکایات کو ٹالنا اور بزور طاقت عمومی محرکات کو بلا فکر نتائج کچلتے چلے جانا مشکل ہو گیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پہیم اصرار کے باعث حکومت ہند کا معاملات کشمیر میں دخل انداز ہونا ناگزیر ہو گیا۔کشمیر کی سرحدات چین روس جیسے اشتراکی ممالک سے ملتی ہیں۔لہذا اپنی فوجی اہمیت اور بین الاقوامی معاملات کے نقطہ نظر سے بھی ضروری ہو گیا کہ انگریز ریاست کے معاملات میں ضرور ہی دخل دے۔نومبر ۱۹۳۱ء کے آخری دنوں میں حکومت کشمیر کو مجبورا مسلمانان ریاست کی شکایات اور مطالبات کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد کمیشن کا اعلان کرنا پڑا۔یقین غالب ہے کہ اس کمیشن کے تقرر میں حکومت ہند کو بھی زبر دست دخل تھا۔وائسرائے اور حکومت ہند کے دوسرے افسروں پر معاملات کشمیر کی وضاحت کرنے کے سلسلہ میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے غیر معمولی دلچسپی لی اور وہ حتی الوسع بر ایران پر اپنا اثر و رسوخ ڈالتے رہے جیسا کہ اس زمانے کے خطوط سے جو آج تک محفوظ ہیں روشنی پڑتی ہے۔مہاراجہ کشمیر کی سازش اور اس کی ناکامی حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔” جب کشمیر کی تحریک ہوئی۔اس وقت بھی ہمیں ایسے ہی لوگوں سے کئی خبریں ملیں۔جن سے ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ایک وقت ایسا واقعہ ہونے لگا تھا جس سے تحریک کشمیر بالکل تباہ ہو جاتی۔اس وقت ایک ہندو لیڈر دیوان چمن لال تھے جو دیوان رام لال کے بھائی تھے۔کانگریس میں انہیں کافی پوزیشن حاصل تھی۔جب راجہ نے دیکھا کہ اب اسے کوئی رستہ نہیں ملتا۔تو اس نے کانگریس کو خریدنے کی کوشش کی۔چنانچہ اس نے دیوان چمن لال سے کہا کہ میں آپ کو یورپ میں پرو پیگنڈا کے لئے مقرر کرتا ہوں۔