تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 474 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 474

تاریخ احمدیت جلد ۵ 462 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ "انقلاب" کی حیثیت سے انگلستان گئے ہوئے تھے انگلستان سے مندرجہ ذیل خط لکھا۔کشمیری مسلمانوں کے تعلق میں برطانوی جرائد کا رویہ پہلے کی نسبت بہتر ہے۔اور اس میں بلا شائبه و ریب مولوی فرزند علی صاحب امام مسجد لندن کا بڑا حصہ ہے۔جو شروع سے لے کر کشمیر کے تعلق میں مسلسل جدوجہد فرماتے رہے ہیں۔اخبارات میں جو خبریں شائع ہوتی رہیں ان کے علاوہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طرف سے متعدد تار موصول ہوئے جن کی کاپیاں ایک ایک مندوب کے پاس بھیجی جاتی ہیں "۔( انقلاب ۱۹/ نومبر ۱۹۳۱ء) جناب عبد المجید صاحب سالک نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔انگلستان میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جو کام کیا وہ ہندوستان کے کام سے بھی کہیں زیادہ بیش بہا تھا۔مولانا مہر کے تازہ مکتوب میں قار مکین ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ انگریزی پریس کا رویہ پہلے اچھا نہ تھا۔لیکن آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر کے برقی پیغامات اور مولوی فرزند علی امام مسجد لنڈن کی ان تھک مساعی سے اب حالات بہت بہتر ہیں اور اکثر انگریزی اخبارات کا لب ولہجہ ہمدردانہ ہو گیا ہے۔اس کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے جو معزز و محترم ارکان گول میز کانفرنس میں شریک ہیں ان کو ہندوستان کے مفصل تار پہنچتے رہے جن میں حوادث کشمیر بیان کئے جاتے تھے۔اور ان حضرات نے انہی تاروں سے متاثر ہو کر وزیر ہند سے متعدد ملاقاتیں کیں اور یہ وعدہ لیا کہ کشمیر کے معاملہ میں مظلوموں کی امداد کی جائے گی"۔مظفر آباد ( آزاد کشمیر) کا اخبار ”ہمارا کشمیر ۱۷۹/ مارچ ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ (جناب مرزا صاحب نے جنگ آزادی میں شہید ہونے والوں کی تصویریں اپنے آدمیوں سے کچھوا کر انگلستان ارسال کیں۔شہیدوں کے خونی جائے پارلیمنٹ کے ممبروں کو دکھائے گئے۔14 اسی طرح وہ بعض لارڈز مثلا کر تل ہاورڈ بری وغیرہ کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔کہ وزراء اور پارلیمنٹ کے دوسرے ممبروں پر زور دیں کہ برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر میں مداخلت کرے۔چنانچہ وزیر ہند کی پہلو تہی کے باوجود پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ کئی بار زیر بحث لایا گیا۔مولوی فرزند علی خان صاحب کے بعد جب مولوی عبدالرحیم صاحب درد انگلستان تشریف لے گئے تو تحریک آزادی کی سرگرمیاں زور شور سے جاری رہیں چنانچہ آپ کے تیار کردہ بعض سوالات پارلیمنٹ میں ایک ممبر لیفٹیننٹ کرنل آر - وی۔کے ایلین نے دریافت کئے۔حضور نے امام مسجد لنڈن کو یہ بھی تاکید فرمائی کہ گول میز کانفرنس میں شامل ہونے والے مسلمان ممبروں کے ذریعہ سے بھی مسئلہ کشمیر کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش کی جائے چنانچہ ہزہائی نس سر آغا خاں ، سرمیاں محمد شفیع ، ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے علیحدہ علیحدہ