تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 470
تاریخ احمدیت جلد ۵ 458 تحریک آزادی کشمیراد رجماعت احمد به لیڈی لارڈ و لنگڈن کو مطلع کیا جائے۔دیو بند کے جلسہ میں مولوی محمد طیب صاحب مہتمم دار العلوم مولوی حسین احمد صاحب مدنی اور مولوی میرک شاہ صاحب کی تقریریں ہوئیں۔لاہور کا جلسہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کی صدارت میں ہوا جلوس اور جلسہ میں ایک لاکھ مسلمان شریک ہوئے۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، مولوی دارد صاحب غزنوی اور سید محسن شاہ صاحب نے پر جوش تقریریں کیں۔کلکتہ میں سہروردی صاحب نے عظیم الشان جلسہ کی صدارت کی۔بمبئی میں ایک ہزار باوردی والٹیر ز نے جلوس کا انتظام کیا۔مسلمانوں کا یہ جلوس بے نظیر تھا۔جلسہ میں مولوی شوکت علی صاحب نے خاص طور پر حصہ لیا۔سیالکوٹ میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف پر جوش مظاہرہ کیا گیا جس میں مولوی عصمت اللہ صاحب مبلغ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام نے پر جوش تقریر کی۔اور آغا غلام حیدر صاحب میونسپل کمشنر سیالکوٹ کی صدارت میں قرار دادیں پاس ہو ئیں۔پٹنہ میں مولوی شفیع داؤدی صاحب کی صدارت میں جلسہ ہوا اور انہوں نے اطلاع دی کہ صوبہ بہار کے گوشہ گوشہ میں یوم کشمیر کے موقعہ پر پر جوش مظاہرے ہوئے۔علی گڑھ میں حاجی محمد صالح خان صاحب شیروانی آنریری مجسٹریٹ کی صدارت میں جلسہ ہوا کراچی کے خالقدینہ ہال میں مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوا۔حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون صاحب نے صدارت کی۔اسی طرح دہلی پونا، لکھنو، رنگون مالا بار گیا، حیدر آباد ، بنگال، بنگلور ، بہار و اڑیسہ وغیرہ شہروں میں زبردست جلسے منعقد ہوئے۔غرضکہ بر صغیر کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا جبکہ ملک کا گوشہ گوشہ تحریک آزادی کشمیر کی آواز سے گونج اٹھا اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دو سرے سرے تک مسلمانوں میں درد و الم کی ایسی لہر دوڑ گئی کہ وہ دیوانہ وار اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے"۔اندرون ریاست میں جہاں ڈوگرہ حکومت مظالم ڈھارہی تھی۔یوم کشمیر خاص اہتمام سے منایا گیا۔چنانچہ اس دن سرینگر میں حکام کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود جامع مسجد میں نہایت کامیاب جلسہ ہوا جس میں ایک لاکھ فرزندان توحید کا اجتماع ہوا۔اس موقعہ پر ان چھوٹے چھوٹے یتیم بچے اور بچیوں کو سٹیج پر لایا گیا جن کے باپ ظالم اور فرعون مزاج ڈوگروں کے مظالم کا شکار ہو گئے تھے۔یہ نظارہ بڑا ہی درد ناک تھا جو نہی لوگوں کی نظر ان معصوموں پر پڑی۔مجمع زار زار رونے لگا۔ہر ایک کی آنکھیں پر نم تھیں جلسہ گاہ اس وقت ماتم کدہ بن گئی۔اور جب شہیدوں کے خونی کپڑے دکھائے گئے تو ایک حشر سا برپا ہو گیا۔سرینگر کے علاوہ گلمرگ، شوپیاں ، بانڈی پور اور دوسرے مقامات پر بھی اس روز