تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 468
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 456 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کی ضرورت ہے۔امن کی حالت میں وفد کی ضرورت نہیں لیکن جب میں نے تار دی کہ گو بظا ہر آپ کو فتنہ دیا ہوا نظر آتا ہے۔مگر چونکہ اس فتنہ کی جڑیں گہری ہیں اور ہندوستان کے مسلمانوں میں کشمیر کے معاملات کے متعلق ایجی ٹیشن ہے اس لئے آپ وند کے جانے کی اجازت دیں۔اس کا آنا مفید ہو گا تو اس پر کشمیر گورنمنٹ یہ جواب دیتی ہے کہ چونکہ فساد کی جڑیں گہری ہیں اس لئے وفد کے آنے کی ضرورت نہیں۔گویا کہ خطرہ کے متعلق وفد کا آنا ضروری نہیں۔اس طرح وہ اپنی دوسری تار میں پہلی تار کی تردید کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ان تاروں کا نتیجہ یہ ہوا کہ وائسرائے پر حقیقت کھل گئی۔اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا کہ جلد یا بدیر حکومت ہند کو اس معاملہ میں دخل دینا پڑے گا۔اور جو پہلی ملاقات میں مجھ پر اثر تھا کہ وہ کسی صورت میں بھی کشمیر کے معالمات میں دخل دینے کو تیار نہیں یا کم سے کم وہ پورا زور لگا ئیں گے کہ وہ اس سے بچیں اس میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔اور میں نے سمجھا کہ اب آئندہ میں جو زور گورنمنٹ ہند پر ڈالوں گا بے اثر نہیں جائے گا بلکہ نتیجہ خیز ہو گا"۔۵۵