تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 467
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 455 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اس کا جواب پرائم منسٹر کشمیر کی طرف سے مندرجہ ذیل الفاظ میں آیا۔" عبد الرحیم درد سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی فیئر و یو شملہ ایجواب آپ کے تار لکھا جاتا ہے کہ صورت حال پر پوری طرح قابو پالیا گیا ہے۔اور حالات اب اصل حالت میں ہیں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو رہی ہے۔ایسے موقع پر کسی ڈیپوٹیشن کے آنے سے لازماً از سر نوجوش پیدا ہو جائے گا۔اس لئے افسوس ہے کہ ہزہائنیں آپ کی درخواست منظور نہیں کر سکتے "۔اس پر میں نے وائسرائے کے سامنے پروٹسٹ کیا کہ آپ سے مشورہ کرنے کے بعد یہ تار دی گئی تھی اور ایسے لوگ منتخب کئے گئے تھے جن پر ہرگز کسی فساد کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔مگر باوجود اس کے مہاراجہ نے خود سری کے ماتحت مسلمانوں کی جنگ کی ہے۔اور ایسے وفد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے جواب میں وائسرائے کی طرف سے کچھ معذرت کی گئی اور کہا گیا کہ غالبا غلط فہمی ہو گئی ہے دوبارہ پھر تار دیجئے۔چنانچہ ۵ / اگست ۱۹۳۱ء کو میری طرف سے مندرجہ ذیل تار مہاراجہ کو دی گئی۔یو رہائیس کے وزیر اعظم کے تار بنام سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے متعلق میں یو رہائیس ہے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔اگر چہ کشمیر کے حالات بظاہر اصلاح پذیر نظر آتے ہیں۔مگر ہماری معلومات کے لحاظ سے ایجی ٹیشن شدید ہے۔اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔علاوہ ازیں ہندوستان کے مسلمانوں میں کشمیر کے معالمات کے متعلق بہت ایجی ٹیشن ہے اور یو ر ہائینس کی طرف سے اس وفد کو ملاقات کا موقع دینے سے حالات میں سکون پیدا ہو گا بر خلاف اس کے ایسے معزز افراد کو ملاقات کی اجازت دینے سے انکار پر اصرار سے مسلمانوں کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گا۔اس کا جواب دو ایک دن کے بعد پرائم منسٹر کی طرف سے یہ آیا۔”امام جماعت احمد یہ فیکرو یو شملہ ! بحوالہ آپ کے تار ۵ / اگست ہزہائیس کی گورنمنٹ کا اب تک بھی یہی خیال ہے۔کہ ایسے حالات میں جبکہ حالت بدستور سابق ہو چکی ہے اور معاملات رو بہ اصلاح ہیں۔کسی بیرونی وفد کی آمد سے یقینا تازہ جوش اور شبہات پیدا ہوں گے۔خاص کر ایسی حالت میں جبکہ آپ خود گواہ ہیں کہ ایجی ٹیشن کی جڑیں بہت گہری ہیں۔وزیر اعظم کشمیر " میں نے وائسرائے کو لکھا اس تار کے الفاظ کو دیکھ لیجئے۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کشمیر گورنمنٹ کی نیت مسلمانوں کے متعلق خراب ہے جب میں نے ان کو یہ لکھا کہ فسادات کی وجہ سے برطانوی ہند میں بھی شورش ہے اور وفد کے جانے سے اس میں سکون پیدا ہو جائے گا۔تو کشمیر گورنمنٹ نے جواب دیا کہ چونکہ امن ہو گیا ہے اس لئے کسی وفد کی ضرورت نہیں گویا فساد کی حالت میں تو وفد