تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 466
تاریخ احمدیت۔جلده 454 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد ہے گورنمنٹ کے اشارہ پر شائع کیا ہے۔اس کے علاوہ ریاست نے مولوی ابوالکلام آزاد کو دعوت دی ہے۔یہ دعوت اگر چہ پہلے کی ہے تاہم اندیشہ ہے کہ ریاست ایک نیشنلسٹ مسلمان کو وہاں بلوا کر مسلمانان کشمیر کے کیس کو خراب کرنا چاہتی ہے۔زیادہ کیا عرض کروں حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں میری طرف سے آداب عرض ہو۔محمد اقبال پھر ۵ اگست ۱۹۳۱ء کو ان کا لکھا ہوا خط خود براہ راست میرے پاس آیا جس کے متعلقہ حصے درج ذیل ہیں۔"کشمیر کے متعلق آپ کی کوششیں یقین ہے بار آور ہوں گی۔مگر ذرا ہمت سے کام لیجئے اور اس معاملہ کو انجام تک پہنچائیے۔کشمیر کے مہاراجہ کے پاس وفد لے جانا مسلمانوں کے مفاد کے لئے نہایت مضر ثابت ہو گا۔میں آپ کو خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اس تجویز کو جامعہ عمل نہ پہنائیے۔میں مفصل عرض نہیں کر سکتا۔بالمشافہ موقعہ ہوا تو عرض کروں گا۔اس تجویز کی بجائے یہ کیجئے کہ تین معززین کا وفد جس میں ایک آپ ہوں انگلستان جائے اور وہاں صرف دو ماہ قیام کرے اور انگریزی قوم اور پارلیمنٹ کو کشمیر کی تاریخ اور موجودہ حالات سے آگاہ کرے اس پر زیادہ سے زیادہ آٹھ دس ہزار روپیہ خرچ ہو گا اور نتائج اس کے بے انتہا خوشگوار ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب کی توقعات سے بڑھ کر ہوں گے اگر مجھ کو ROUND TABEL CONFERANCE سے موقعہ مل گیا۔تو انشاء اللہ کشمیر کے ADMINISTRATION کا سارا تارو پود بکھیر کر رکھ دوں گا اور ایسا کرنے میں کسی کا خوف مجھ پر غالب نہ ہو گا "۔جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں میں نے وند کی اس لئے تجویز پیش کی تھی کہ میں جانتا تھا کہ مہاراجہ نے نہیں مانتا اور اس طرح وائسرائے جو کہ اس کا بہت ہی گرویدہ ہے اس کی ذہنی کیفیت کی حقیقت سے آگاہ ہو جائے گا۔اس لئے باوجود اس کے کہ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کا میرے دل میں بہت احترام تھا میں نے ان کے مشورہ کو قبول نہ کیا۔کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ دونوں باتوں کا نتیجہ ایک ہی ہے نہ وفد نے جاتا ہے اور نہ وہ نتائج پیدا ہونے ہیں جن کا ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو خوف ہے اور ایسا ہی ہوا۔میں نے ۳/ اگست ۱۹۳۱ء کو وائسرائے کے مشورہ سے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے مندرجہ ذیل الفاظ میں تار مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر کو دلائی۔” براہ مہربانی نواب سر ذو الفقار خان صاحب نواب ابراہیم خان صاحب آف سنج پورہ ، خواجہ حسن نظامی صاحب خان بهادر شیخ رحیم بخش صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی پر مشتمل مسلمانوں کے ایک وفد کو اجازت دیں کہ وہ کشمیر کی موجودہ صورت حالات کے سلسلہ میں اگلے ہفتہ کی تاریخ کو یو رہائنس کی خدمت میں حاضر ہو۔