تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 462
ļ تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 450 تحریک آزادی کشمیر ادر جماعت احمدیہ سرینگر محمد عثمان صاحب بٹ قصبہ ترال ، خواجہ غلام وازه (ہندواڑہ) محمد مقبول صاحب (وٹالی) غلام قادر مسالہ (ہندواڑہ) قاضی عبد الغنی صاحب دلنہ (بارہ مولا) محمد یوسف کو تھیل) محمد یوسف صاحب قریشی ، صدر الدین (پونچھ) حبیب اللہ صاحب زرگر، خواجہ عبد الرزاق صاحب ترال، حکیم غلام علی صاحب سرینگر ، مفتی جلال الدین صاحب، غلام قادر صاحب (گاندربلی) پیر ضیاء الدین صاحب اندرابی قلند ر شاہ مظفر آباد ، خواجہ محمد شعبان صاحب محمد عبد اللہ خان صاحب۔برادر ان کشمیر کے لئے مطبوعہ خطوط مسلمانان کشمیر کی تنظیمی جدوجہد میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ان شائع شدہ مکتوبات کا بھاری عمل دخل ہے جو حضور اہل کشمیر میں بجتی، تنظیم اور روح قربانی قائم رکھنے کے لئے شائع کر کے اندرون کشمیر بھجواتے رہے۔ان خطوط نے خصوصاً ان ایام میں جبکہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب نظر بند ہوئے کشمیریوں میں زبر دست تنظیم ولولہ اور جوش پیدا کر دیا۔اور تحریک کے ہر نازک موڑ پر صحیح رہنمائی کی باب چهارم فصل پنجم میں یہ اہم خطوط بطور ضمیمہ شامل کر دیئے گئے ہیں چنانچہ شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے جیل سے رہائی کے بعد اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا۔مکرم و معظم جناب حضرت میاں صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔سب سے پہلے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں تہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کروں اس بے لوث اور بے غرضانہ کوشش اور جدوجہد کے لئے جو آپ نے کشمیر کے درماندہ مسلمانوں کے لئے کی پھر آپ نے جس استقلال اور محنت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو لیا۔اور میری غیر موجودگی میں جس قابلیت کے ساتھ ہمارے ملک کے سیاسی احساس کو قائم اور زندہ رکھا مجھے امید رکھنی چاہئے کہ آپ نے جس ارادہ اور عزم کے ساتھ مسلمانان کشمیر کے حقوق کے حصول کے لئے جد وجہد فرمائی۔آئندہ بھی اسے زیادہ کوشش اور توجہ سے جاری رکھیں گے۔اور اس وقت تک اپنی مفید کو ششوں کو بند نہ کریں گے۔جب تک ہمارے تمام مطالبات صحیح معنوں میں ہمیں حاصل نہ ہو جائیں"۔حکام ریاست نے جلد ہی یہ خطوط جو آپ شائع کر کے اندرون کشمیر بھجواتے رہتے تھے ضبط کرنا شروع کر دیئے جس پر حضور نے لکھا۔"عزیز دوستو! جو میرے پہلے خط کا حشر ہو ا ر ہی اس خط کا بھی ہو سکتا ہے۔اس لئے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ لوگ یہ احتیاط کیا کریں کہ میرا مطبوعہ خط ملتے ہی فورا اسے پڑھ کر دوسروں تک پہنچا دیا کریں۔تاکہ ریاست کے ضبط کرنے سے پہلے وہ خط ہر ایک کے ہاتھ میں پہنچ چکا ہو۔اور ماکہ ہر مسلمان اپنے فرض سے آگا ہو چکا ہو۔اور بہتر ہو گا جس کے ہاتھ میں میرا خط پہنچے وہ اس کا مضمون ان مردوں، عورتوں اور بچوں کو سناد نے جو پڑھنا نہیں جانتے۔اور اگر ہو