تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 459 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 459

تاریخ احمدیت جلد ۵ 447 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ عبداللہ نے جواب دیا یہ آواز تو نہایت شاندار طور پر اٹھا سکتا ہوں۔اس پر میں نے کہا۔بس آپ اس کام کے اہل ہیں، اور خدا کا نام لے کر اس کو شروع کر دیں میں نے ان کو اخراجات کے متعلق ہدایتیں دیں۔کہ اس طرح دفتر بنانا چاہئے۔اور وعدہ کیا کہ دفتر کے اخراجات اور دوسری ضرورتیں جو پیدا ہوں گی۔ان کے اخراجات میں مہیا کرتا رہوں گا۔چنانچہ اس گفتگو کے بعد درد صاحب شیخ محمد عبد الله صاحب کو لے کر کشمیر چلے گئے۔اور ان کی واپسی پر کشمیر گورنمنٹ کو علم ہوا کہ انہوں نے کشمیر کے بارڈر پر مجھ سے ملاقات کی۔چنانچہ اس کی طرف مسٹر جیون لعل پر سنل اسسٹنٹ پرائم منسٹر نے اپنے خط میں اشارہ کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔کسی قدر ہمیں یہ تسلی بھی تھی کہ صدر صاحب خود ریاست کی سرحد پر آکر اپنے نمائندگان سے مل گئے ہیں۔اور تمام حالات معلوم کرگئے ہیں۔" یہ تفصیل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے اپنے ایک غیر مطبوعہ مضمون میں درج فرمائی ہے اور ساتھ ہی شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا ایک طویل مخط بھی درج کیا ہے۔جس میں شیخ صاحب نے علاوہ دوسرے امور کے اس تاریخی ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔” میں جناب کو مودبانہ گڑھی حبیب اللہ والا وعدہ یاد دلانے کی جرات کرتا ہوں کہ اخراجات دفتر جو کہ شاید مبلغ - / ۲۳۸ روپے بنتے ہیں۔جناب والا ماہوار بھیجتے رہیں گے مجھے روپے کی از حد ضرورت ہے کاش مجھے سرینگر سے صرف دو ہفتہ کی مہلت ملتی کہ میں دیہات کا دورہ کر کے چندہ جمع کرتا مگر جونہی میں ادھر ادھر جاتا ہوں کام تمام کا تمام جگڑ تا ہے۔میں جناب سے التجا کروں گا۔کہ کم از کم اخراجات دفتر کا انتظام فرما ئیں"۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے اپنا وعدہ کس مخلصانہ انداز میں پورا فرمایا۔اس کی تفصیلات تو آئندہ مختلف مقامات پر آئیں گی مگر یہاں بھی بطور نمونہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی صرف ایک تحریر درج کر دی جاتی ہے۔1- شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے مسلمانان ہند کے نام مندرجہ ذیل مکتوب لکھا۔سرینگر بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم برادران لملت: السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔جن حالات میں سے کشمیر کے مسلمان اس وقت گزر رہے ہیں۔وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی تمدنی اور تعلیمی اور مذہبی ترقی کے لئے جدو جہد ایک صرف کثیر کو چاہتی ہے۔اندریں حالات ہم بیرون کشمیر کے مسلمان بھائیوں سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کارخیر میں ہماری امداد فرمائیں۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اس وقت اپنے قیمتی مشورہ سے امداد کرنے کے علاوہ ہماری قانونی امداد بھی کی