تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 455 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 455

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 443 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ (فصل دوم) مسلمانان ریاست کی تنظیم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا جب قیام عمل میں آیا۔تو ریاست کے مشہور مسلم لیڈر نظر بند تھے۔اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے صدارت قبول فرمانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانان ریاست کی تنظیم کی طرف فوری توجہ مبذول فرمائی۔دراصل آزادی کشمیر کے متعلق حضور کا قطعی نقطہ نظر ( جس کا آپ نے واضح لفظوں میں اعلان بھی کر دیا ) یہ تھا کہ "کشمیر کو آزادی صرف اہالیان کشمیر کی کوشش سے مل سکتی ہے باہر کے لوگ صرف دو طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں۔(۱) روپیہ سے (۲) حکومت برطانیہ اور دوسری مہذب اقوام میں اہالیان کشمیر کی تائید میں جذبات پیدا کر کے۔پس ایک طرف تو اہل کشمیر کو یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ باہر کے لوگ آکر ان کی کوئی جسمانی مدد کر سکتے ہیں ان کی مدد اول بے اثر ہوگی دوسرے اس کا آزادی کی کوشش پر الٹا اثر پڑے گا۔اور جدوجہد کی ہاگ اہل کشمیر کے ہاتھ سے نکل کر ایسے ہاتھوں میں چلی جائے گی جو بالکل ممکن ہے کہ کسی وقت انہیں فروخت کر ڈالیں۔اور خود الگ ہو جائیں۔پس خود اہل کشمیر کا فائدہ اس میں ہے کہ باہر سے مشورہ لیں، مالی امداد لیں۔لیکن کسی صورت میں بھی جنگ میں شریک ہونے کے لئے انہیں نہ بلا ئیں۔تاکہ معالمہ ان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے۔عارضی جوش ان کے کام نہ آئے گا بلکہ مستقل قربانی ان کے کام آئے گی۔اور مستقل قربانی ملک کے باشندے ہی کر سکتے ہیں " بهر کیف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی چاہتے تھے کہ مسلمانان کشمیر کی اندرونی تنظیم ایسی مستقل پائیدار اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہو جائے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر مظالم کا مردانہ وار مقابلہ کر کے اپنے حقوق و مطالبات منوا سکیں۔اس سلسلہ میں حضور نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ کشمیر کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شامل ہونے والے کشمیری نمائندوں کو ہر قسم کے مخلصانہ تعاون کا یقین دلا کر انہیں مسلمانوں کو منظم کرنے کی اہم ہدایات دیں۔چنانچہ جموں کے مشہور سیاسی لیڈر جناب اللہ رکھا صاحب ساغر (سابق مدیر و مالک اخبار "جاوید) کا بیان ہے کہ ”کچھ خفیہ ہدایات مجھے دی گئیں اور کہا گیا کہ میں جموں جانے سے پہلے سیدھا سرینگر r