تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 447 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 447

ریخ احمدیت۔جلد ۵ 435 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت ! صاحب صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی ، حکیم فضل الرحمن صاحب چوہدری ظہور احمد صاحب چودھری نذیر احمد صاحب باجوہ ، چوہدری محمد عظیم صاحب باجوہ چوہدری عصمت اللہ صاحب ایل ایل بی مولوی ظہور الحسن صاحب (حال سیالکوٹ) اور لفٹنٹ محمد اسحاق صاحب (ابن حضرت مولوی حکیم قطب الدین صاحب) سرینگر جموں اور میرپور میں تحریک آزادی میں اہم خدمات بجالانے کا موقعہ ملا۔چوہدری ظہور احمد صاحب لکھتے ہیں۔(فروری ۱۹۳۲ء میں قادیان سے اپیل کی گئی کہ گریجوئیٹ اور مولوی فاضل اور اس سے کم تعلیم کے لوگ اپنے آپ کو آنریری خدمات کے لئے پیش کریں تاکہ ان کے سپر د خدمت کی جاسکے۔سینکٹروں لوگوں نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کر دیا میر پور کے علاقہ میں زیادہ کارکنوں کی ضرورت تھی۔جموں سے چوہدری محمد عظیم صاحب باجوہ میر پور جاچکے تھے۔دوسرے کارکنوں کی ایک ٹیم مولانا ظہور الحسن کی سرکردگی میں بھجوائی گئی۔مولانا بڑے جوشیلے کارکن ہیں وہاں خوب کام کیا۔ناصر میر پوری کا نام اخبارات میں کثرت سے آتا تھا یہ ناصر میر پوری مولانا ظہور الحسن ہی تھے"۔اخبار "انقلاب" نے اپنی سرفروش اور جانباز کارکنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔کشمیر کمیٹی کے۔۔۔اگر چہ وہاں پہلے ہی متعد دار کان مصروف کار تھے لیکن ان کی امداد اور مسلم نمائندوں سے مشاورت کرنے کی غرض سے پنجاب کے بعض مقتدر اور تجربہ کار حضرات بھیجے گئے۔جنہوں نے اندرون کشمیر کے منتظم کرنے میں نہایت قابل قدر خدمات انجام دیں۔۔۔ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے محترم عہدیداروں اور کارکنوں کے شکر گزار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اس شکر گزاری میں مسلمانان کشمیر ہم سے کا ملا ہم آہنگ ہیں کہ کمیٹی کے کارکنوں نے نہایت بے نفسی اور انتہائی فراست سے ان کاموں کو نباہا ہے "۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے اور دفتر کشمیر کمیٹی کے مستعد کارکنوں کے علاوہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت مولوی محمد دین صاحب بی۔اے اور بعض دوسرے بزرگوں کو بھی افسروں کی ملاقاتوں وغیرہ کے لئے بھجوایا جاتا رہا۔مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے ابتداء میں سیکرٹری شپ کے فرائض ادا کرنے کے علاوہ دفتر کے بھی ناظم تھے۔مگر جب دسمبر ۱۹۳۱ء میں مولانا جلال الدین صاحب شمس فلسطین سے اعلائے کلمہ اسلام کی بجا آوری کے بعد تشریف لائے تو حضور نے آپ کو دفتر کا انچارج مقرر فرما دیا اور اس