تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 444 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 444

تاریخ احمدیت جلد ۵ 432 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد ہے کو چلانے میں زیادہ سے زیادہ ممد و معاون ہو سکے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے کمیٹی بنتے ہی ملک کے مختلف مسلمان لیڈروں کو کمیٹی سے تعاون کرنے کی اپیل کی اور اس خیال سے کہ اس کمیٹی میں کانگریس کے مؤید مسلمانوں کی بھی نمائندگی ہو جائے گی آپ نے مظہر علی صاحب اظہر اور چوہدری افضل حق صاحب ( مفکر احرار) کو خطوط لکھوائے کہ مجھے امید ہے کہ آپ اس میں شامل ہو کر ہمارا ہاتھ بٹائیں گے۔مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی کو ان کے پاس بھجوایا کہ یہ اصحاب کسی طرح اس میں شامل ہو جائیں۔مگر یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں اس پر آپ نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی اور مولوی غلام رسول صاحب مہر کو خطوط لکھے کہ اگر کمیٹی میں شمولیت سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ میں صدر ہوں تو آپ ان حضرات کو تیار کریں کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبر ہو جائیں۔اور مسلمانوں کی کثرت رائے کے ماتحت تحریک چلانے کا اقرار کریں۔تو میں کمیٹی سے فورا مستعفی ہو جاؤں گا۔بلکہ اس صورت میں وہ میرے اس خط ہی کو استعفیٰ سمجھ لیں۔اس پیشکش کا جواب یہ دیا گیا کہ ہم اپنا الگ کام کریں گے۔یہ صورت حال بڑی حوصلہ شکن تھی مگر کشمیر کمیٹی نے نہ صرف عدم تعاون کرنے والوں کی تشہیر سے اجتناب کیا بلکہ اعلان کر دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں ہر مسلم تنظیم یا مجلس سے تعاون کرے گی۔اور حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالی نے صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے تمام شاخوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے پروگرام کو قائم رکھتے ہوئے جس قسم کی امداد کر سکیں کر دیں مثلا طبی امرداد- بهر حال کشمیر کمیٹی کا یہ کارنامہ ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی مسلسل توجہ اور زبر دست کوشش نے مولوی میرک شاہ صاحب جیسے دیوبندی عالم مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوئی اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی جیسے عالم الہحدیث ، خواجہ حسن نظامی صاحب اور مولوی عبدالحمید ظفر صاحب بنگالی جیسے مذہبی پیشوا، مولوی حسرت صاحب موہانی، مولوی شفیع داؤدی صاحب اور ڈاکٹر شفاعت احمد خان جیسے سیاستدان سید عبد القادر صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج جیسے مورخ پروفیسر علم الدین صاحب سالک جیسے فاضل ، حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون اور شیخ نیاز علی صاحب ایڈووکیٹ اور چوہدری عبدالمتین صاحب آف ڈھاکہ جیسے قومی کارکن ، ملک برکت علی صاحب اور مشیر حسین صاحب قدوائی جیسے کانگریسی ، ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب جیسے ماہر تعلیم ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب جیسے فلسفی و شاعر اور سید محسن شاہ صاحب جیسے کشمیر کے دیرینہ خادم مولوی عبدالمجید