تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 443
تاریخ احمد مجید جلده 431 تحریک آزادی کشمیر او ر جماعت احمد یہ پھر یہ اصلاح بھی آل انڈیا کشمیر کمیٹی آئینی و دستوری دائرہ میں کرنے کے لئے قائم ہوئی تھی اور حق یہ ہے کہ اگر یہ کمیٹی سیاسی اغراض کے لئے بھی قائم ہوتی تب بھی اس کے لئے کسی غیر آئینی اور خلاف قانون روش کا اختیار کرنا سراسر نقصان دہ تھارجہ یہ کہ زمانہ مسلمانان کشمیر ہی کے لئے نہیں مسلمانان ہند کے لئے بھی نہایت نازک زمانہ تھا۔اور وہ خود اپنے حقوق و مطالبات کے حصول میں زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار تھے۔برطانوی حکومت کا جھکاؤ ہندوؤں کی طرف تھا۔اور ہندو اپنے تمام تر اختلافات فراموش کر کے پورے ہندوستان سے مسلمانوں کی ہستی تک مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ہندو راجوں مہاراجوں اور سرمایہ داروں کو کسی بھی ناجائز اور ناروا ذریعہ کے اختیار کرنے سے دریغ نہیں تھا۔کانگریس کے لیڈر آزادی ہند کے دعاوی کے باوجود ہندو راجوں اور مہاراجوں کے حق میں تھے۔اور حکومت ہند کی پالیسی یہ تھی کہ وہ ریاستوں کے اندرونی حالات میں غیر ریاستی لوگوں کی مداخلت کسی طرح گوارا نہ کرتی تھی۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں ہندوستان اور ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی طرح ریاست کشمیر کی آزادی کا مسئلہ بھی تدریجی طور پر ہی حل ہو سکتا تھا اور اہل کشمیر قانو نادو سری ریاستوں سے بڑھ کر کوئی غیر معمولی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے۔لہذا " آل انڈیا کشمیر کمیٹی " کے لئے تحریک کو چلانے کے لئے صرف آئینی جدوجہد ممکن تھی۔اور حضور نے شروع میں ہی ممبران کمیٹی کے سامنے اس کی وضاحت فرما دی تھی۔چنانچہ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کا بیان ہے۔” جب ۱۹۳۱ء میں حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لیڈر ان قوم کے مشورہ بلکہ ان کے اصرار اور اعتماد پر تحریک کشمیر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔تو اس وقت حضور نے صرف اس شرط پر اس مبارک کام کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا کہ آپ کی ساری کوششیں کانسٹی ٹیو مثل یعنی دائرہ نظام کے اندر ہوں گی اور اس روح تعاون پر مبنی ہوں گی جو جماعت احمدیہ کے مذہبی اصول میں سے ایک اہم اصول ہے لیڈروں نے اس شرط کو منظور کیا"۔مسلمانان ہند کو متحد پلیٹ فارم پر لانے کی جدوجہد مسلمانان کشمیر کا مسئلہ چونکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ تھا اس لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبروں نے روز اول ہی سے یہ حتمی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ملک کی تمام مسلمان جماعتوں اور انجمنوں سے اشتراک عمل کر کے کشمیر کی خاطر کام کرنے والی مختلف جماعتوں میں نظم پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔تا مسلمانوں کے متحد پلیٹ فارم سے اٹھنے والی آواز تحریک