تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 435
تاریخ احمدیت۔جلده 423 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت اسد۔صاحب گاگرن شوپیاں۔میر عبدالرحمن صاحب رینجر- میر غلام محمد صاحب گاگرن (شوپیاں) جمال الدین صاحب کا گرن (شوپیاں) غلام رسول صاحب شیخ، انکو شوپیاں مولوی خلیل الرحمان صاحب (قصبہ پہنچیری رایگان X بروایت جناب عبد العزیز صاحب ڈار) مولوی عبد الرحمان صاحب (اندوره اسلام آباد) HARO HA - تاریخ اقوام کشمیر " جلد ۲ صفحه ۱۷۶۱۷۵ -۲۰ مولوی فاضل مولوی عبد الجبار صاحب ناسنور مولوی احمد اللہ صاحب ناستور - مولوی نور احمد صاحب پاستور - مولوی محمد عبد الله شاه صاحب ناسنور مولوی خواجہ عبد الغفار صاحب ڈار صحافی نام منور کاشمیری انگریزی خوان - جناب غلام محمدار - مبارک احمد صاحب دار مولوی عبد الرحیم صاحب محمد ایوب صاحب صابر (مولوی عبد اللہ صاحب وکیل (مولوی عبد اللہ صاحب وکیل بعد کو ناسنور سے سرینگر آگئے اور پھر کچھ عرصہ بعد اسلام چھوڑ کر بھائی ہو گئے۔) ضمیمہ "نوائے کشمیر " کو ٹلی ۲/ فروری ۱۹۵۱ء صفحہ ۱۲۰ مضمون جناب منشی امیر عالم صاحب کو ملی ضلع میرپور) ۲۲ بروایت جناب خواجہ عبد العزیز صاحب ڈار، پاستور -۲۳ مختصر تاریخ کشمیر صفحه ۱۳۶ مولف جناب اللہ بخش صاحب یوسفی) -۲۴ ہفت روزہ لاہور ۲۲ مارچ ۱۹۷۵ صفحه ۶ ( مقام اشاعت لاہور) ۲۵ - الفضل یکم ستمبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۹ کالم ۲ ۲۶ محضر نامہ کا مکمل متن رسالہ فغان کشمیر صفحہ ۵- ۰ پر موجود ہے۔تاریخ اقوام کشمیر صفحہ ۱۴۹ میں آپ کا ذکر آتا ہے۔۲۸ تاریخ اقوام کشمیر صفحه ۱۷۷ ۲۷ ۲۹- فغان کشمیر صفحه ۱۲-۱۳ ۳۰۔رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۲۷ الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه ۴ کالم ها۔آپ کی پانچ روایات صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب سیرت المہدی حصہ سوم (صفحہ ۲۴۰-۲۴۱) میں درج فرمائی ہیں۔۲۲ کشمیر کے حالات صفحه ۱۳-۲۵ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) شائع کردہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیان ۱۹۳۱ء -۳۴ خواجہ عبد الغفار صاحب ڈار مولوی فاضل سابق مدیر اخبار اصلاح سرینگر آپ کے فرزند ارجمند ہیں۔خواجہ عبد الرحمن صاحب کے حقیقی بھائی خواجہ عبد العزیز صاحب ہیں۔جن کی نسبت ہفت روزہ ضمیمہ نوائے کشمیر کو ٹلی (۲) فروری ۱۹۵۱ء) لکھتا ہے خواجہ صاحب موصوف ۱۹۳۱ء سے برابر مسلمانوں کی آزادی کے لئے جد وجہد کرتے رہے ۱۹۳۵ ء میں آپ نے تحصیل دار صاحب کو لگام کے خلاف ایک زمیندار کو عدالت میں بے عزت کرنے پر تمام کو ناکام میں شورش برپا کردی آخر پنڈت جیالال وانچ تحصیلدار کو کھلے اجلاس میں زمیندار سے معافی ما تھوڑی خواجہ صاحب نے تحصیل کو لگام کے ڈوگرہ جاگیر داروں کا ناک میں دم کر دیا تھا مزار مین کو ان کا پورا پورا حق دلانے میں پوری جدوجہد کی۔جب پنڈت نہرو اور شیخ عبد اللہ کو ثر ہانگ آئے تھے توضیح عبد اللہ صاحب نے خواجہ عبد العزیز ڈار کا تعارف کراتے ہوئے کہا خواجہ صاحب میرے پرانے رفتی کاروں میں سے ہیں مگر جب سے میں نے نیشکرم کو اختیار کیا یہ مجھ سے ناراض ہیں مگر میں ضرور یہ کہوں گا کہ جس جماعت سے یہ تعلق رکھتے ہیں وہ زندہ اور فعال جماعت ہے اس جماعت نے کشمیریوں کو بیدار کرنے میں تمام لوگوں سے زیادہ کام کیا اور خواجہ صاحب اپنے علاقہ کے مسلمہ لیڈر ہیں (صفحہ ۲۱) ۳۵، بحوالہ شیر کشمیر صفحه ( از جناب کلیم اختر صاحب) خلیفہ صاحب مہاراجہ کشمیر کے دفتر میں سپرنٹنڈنٹ خاص تھے اس کے بعد وہ ترقی پاکر پہلے ریاست کی وزارت خارجہ میں اسٹنٹ سیکرٹری بنائے گئے پھر وسط ۱۹۲۹ء میں ہوم سیکرٹری کے عہدہ پر فائز ہوئے۔