تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 427
ریت - جلد ۵ 415 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ آپ ڈکٹیٹر کی حیثیت رکھتے ہیں میں آپ کے ساتھ کام کرنے کو موجود ہوں لاہور میں ایک مرکزی مقام بنادیجئے میں بھی وہاں آجایا کروں گا اور ایک بار آپ بھی آجائیں۔۲۴ / جولائی کا جو دن مقرر ہوا ہے اس دن آپ لاہور آجا ئیں میں بھی آجاؤں گا وہاں سب سے مل کر کام کا نقشہ بنا لیا جائے گا میں نے تو بڑے بڑے متعصب مولویوں سے باتیں کیں تو ان کو آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے آمادہ پایا۔بہر حال دوسرے غافل و کامل و بے اثر لوگوں کا انتظار کرنا فضول ہے اب قدم بڑھائیے سب آپ کے پاس جمع ہو جائیں گے۔۲۴ جولائی کو لاہور آنا ممکن ہو تو تار دیجئے۔تاکہ میں ۲۳ کو وہاں پہنچ جاؤں ورنہ قادیان آجاؤں گا تاکہ تمام امور پر زبانی گفتگو ہو سکے۔آپ نے وائسرائے اور لندن کا کام موقع کے موافق کیا۔مگر اس کا کچھ اثر نہیں ہو گا۔جب تک کہ گورنمنٹ اور ریاست مسلمانوں میں یک جہتی اور قوت محسوس نہ کرے خواجہ بانو خدا کے فضل سے اچھی ہیں اور آپ کی اہلیہ کی عیادت کی شکر گزار ہیں۔نیازمند حسن نظامی۔حضور کی طرف سے خواجہ حسن نظامی صاحب کی تجویز کا جواب خواجہ صاحب موصوف نے سرینگر جانے اور گرفتار ہونے کی جو تجویز پیش کی تھی اس کا جواب حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے یہ دیا کہ یہ صحیح ہے کہ میری اور آپ کی گرفتاری پر شور پڑ جائے گا کیونکہ ہمارے لئے اپنی جان اور مال قربان کرنے والے لاکھوں لوگ موجود ہیں مگر ریاست اتنی بیوقوف نہیں کہ ہمیں گرفتار کرے۔میں خوب جانتا ہوں وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گی۔پس اس فعل میں ہماری کوئی قربانی نہیں ہو گی صرف ایک نمائش ہو جائے گی جس سے فائدہ اٹھانا ہماری شان کے خلاف ہے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا۔حضرت خلیفة المسیح شملہ میں مسلم زعما کی کانفرنس اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام رمانی ایدہ الہ تعالی بنصرہ العزیز نے مسئلہ کشمیر پر غور کرنے کے لئے ۲۵/ جولائی ۱۹۳۱ء کا دن مقرر فرمایا تھا۔چنانچہ اس روز نواب سر ذو الفقار علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کی کوٹھی Pair View (شملہ میں نماز ظہر کے بعد ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے بہت سے مسلم لیڈر مثلاً حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی۔سرمیاں فضل حسین صاحب۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب سر ذو الفقار علی خاں صاحب جناب نواب صاحب سنج پوره - خان بہادر شیخ رحیم