تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 426
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 414 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمد به کو اس سلسلے میں متعدد خطوط لکھے اور ایک بلند پایہ لیڈر ہونے کے باوجود نہایت اخلاص و محبت سے ایک خادم کی حیثیت سے تحریک میں کام کرنے کی پیشکش کی چنانچہ ان کے دو مکتوب بطور نمونہ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم در خواجہ حسن نظامی - ۱۳/ جولائی ۱۹۳۱ء مخلص نو از جناب مرزا صاحب السلام علیکم۔آپ نے سرینگر کے حالات پڑھ لئے ہوں گے یہ موقع ہے کہ ہم سب مسلمان اپنی مستعدی اور اخوت اسلامی کو جتنی جلدی ایک مرکز پر جمع کر کے کام شروع کر دیں گے اتنا ہی زیادہ اثر ہو گا میری رائے یہ ہے کہ سری نگر کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے آپ کو اور مجھ کو فور اخود چلنا چاہئے اس سلسلہ میں اگر ہم دونوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔تو ایک برس کا کام ایک مہینہ میں پورا ہو جائے گا بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ جلدی کامیابی ہو جائے گی اور خود آپ کی جماعت میں اتنی بڑی زندگی صرف معمولی حرکت سے پیدا ہو جائے گی جو حیرت انگیز ہوگی۔میں جانتا ہوں کہ آپ کی پوزیشن اور آپ کی ذاتی مصالح اور آپ کی جسمانی صحت مزاحم ہوگی لیکن یہ وقت کسی بات کے دیکھنے کا نہیں ہے۔قدیمی مسلمانوں کی طرح نہایت چستی اور پھرتی سے آگے بڑھ جانے کا وقت ہے میں آپ کے ساتھ بحیثیت ایک معمولی خادم کے چلوں گا لاہور میں بھی اطلاعیں دی ہیں تاکہ اسمبلی کا کوئی ممبر اور کوئی پنشن مسلمان حج اور کوئی بے تعصب ہندو بھی ہمارے ساتھ ہو تاکہ ہم سرینگر میں جاکر ایک منصفانہ اور موثر تحقیقات کر سکیں۔تحقیقات تو یہی ہے کہ مسلمانوں کے ولوں کو مضبوط کیا جائے جن پر تلوار اٹھائی گئی ہے لیکن ہمیں صرف تحقیقات کرنے کا اعلان کرتا ہے اور ہر قسم کی تکلیفوں اور سختیوں کو برداشت کر کے کام کرنا ہے۔اس خط کو دیکھتے ہی مجھے تار دیجئے جہاں آپ بتائیں گے میں فورا پہنچ جاؤں گا۔۔۔حسن نظامی (نقل بمطابق اصل) بسم الله الرحمن الرحیم در خواجہ حسن نظامی - ۱۸/ جولائی ۱۹۳۱ء مخلص نواز حامی مسلمین جناب میرزا صاحب! السلام علیکم - ۱۶/ جولائی کا خط پہنچا غالبا کل یا پرسوں میرا بھی ایک خط آپ کو ملا ہو گا آج کے خط پر غور کرنے سے جو خیال ہو اوہ عرض کرتا ہوں لاہور کی کشمیری کا نفرنس کی نسبت آپ نے نہایت صحیح رائے قائم کی ہے ڈاکٹر محمد اقبال کی نسبت یہ تو ٹھیک ہے کہ ان کا اثر ہے مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کہ ان میں عملی جرات بھی ہے وہ ہر گز اس مشکل کام میں دخل نہ دیں گے چاہے اس وقت وہ وعدہ کر لیں لیکن ایفاء کی امید نہیں ہے۔