تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 425
اریخ احمدیت۔جلد ۵ 413 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ نا انصافی سے پنجاب سے علیحدہ کیا گیا ہے اور دوسرے صوبہ جات کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے مسلمان کشمیری مسلمانوں پر ان مظالم کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔اگر حکومت ہند اس میں مداخلت نہ کرے گی تو مجھے خطرہ ہے مسلمان اس انتہائی ظلم و ستم کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوئے گول میز کانفرنس میں شمولیت سے انکار نہ کر دیں اور انتہائی مایوسی کے عالم میں کانگریسی رو میں نہ بھر جائیں " 40- مجرد حین و مظلومین کی فوری امداد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے وائسرائے کو تار دینے کے ساتھ ہی دوسرا کام یہ کیا کہ چوہدری عصمت اللہ صاحب کیل لائلپوری کوسر بینگر بھجوایا اور مظلومین کی امداد کے لئے پانچ سو کی رقم بھی فی الفور ارسال فرما دی۔سرینگر کے لرزہ خیز سانحہ نے کشمیر کانفرنس کی اطلاع اور دوسرے اہم اقدامات مزید انتظار کو غیر ضروری بنا دیا - تھا اس لئے حضور نے فورا ایک گشتی چٹھی پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے مسلمانوں کو بھی لکھی اور تار بھی دیئے کہ ۲۵/ جولائی ۱۹۳۱ء کو ہم شملہ میں جمع ہو کر کشمیر کے معاملہ پر پورے طور پر غور کریں۔اور اس کے ساتھ ہی آپ نے تین اقدامات فرمائے۔(۱) لنڈن مشن کو کشمیر کے حالات پر احتجاج کرنے کے لئے لکھا۔(۲) روزنامہ الفضل کو اہل کشمیر پر ظلم و ستم کے خلاف زیادہ پر زور آواز بلند کرنے کا ارشاد فرمایا (۳) جماعت احمدیہ کے تمام افراد کو تحریک آزادی کے لئے مستعد و تیار کرنے کے لئے ۱۸ / جولائی ۱۹۳۱ء کو قادیان میں وسیع پیمانے پر زبر دست احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے۔خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل اور مولوی نظام الدین صاحب مبلغ کشمیر نے مظالم کشمیر پر تقریریں کیں اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف زبر دست صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے متعدد قرار دادیں پاس کی گئیں۔جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی کی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے پے در پے مضامین نے یوں تو ملک کے طول و عرض میں بسنے والے طرف سے اشتراک عمل و تعاون کی آواز مسلمانوں میں زبر دست جنبش پیدا کر دی اور ان کی نگاہیں قیادت کے لئے آپ کی طرف اٹھنے لگیں مگر اس پر جوش تعاون داشتراک عمل کی غالبا سیلی زور دار آواز شمس العلماء جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی کی طرف سے اٹھی جنہوں نے حضور