تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 424
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 412 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر نہایت ہی خلاف انسانیت اور وحشیانہ مظالم کا ارتکاب شروع ہو گیا ہے ۱۳/ جولائی کو سرینگر میں جو کچھ ہوا وہ فی الواقعہ تاسف انگیز ہے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق نو مسلمان ہلاک اور متعدد مجروح ہوئے ہیں لیکن پرائیویٹ اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ سینکڑوں مسلمان ہلاک اور مجروح ہوئے ہیں۔ریاست سے آنے والی تمام خبروں پر سخت سنسر ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں جو تار موصول ہوا وہ سیالکوٹ سے دیا گیا ہے ہز ہائی نفیس مہاراجہ کشمیر کے تازہ اعلان کے معا بعد جس میں انہوں نے اپنی مسلم رعایا کو کئی طرح کی دھمکیاں دی ہیں۔اس قسم کی واردات کا ہونا صاف جتاتا ہے کہ یا تو غریب مسلمانوں پر بلا وجہ حملہ کر دیا گیا ہے۔اور یا ایک نہایت ہی معمولی سے بہانہ کی آڑ لے کر ان بیچاروں کو سفاکی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے لیکن ان کے حقوق بے دردی سے پامال کئے جار ہے ہیں اس وقت وہاں مسلم گریجوایٹوں کی تعداد بہت کافی ہے مگر انہیں کوئی ملازمت نہیں دی جاتی۔یا اگر بہت مہربانی ہو تو کسی ادنی سے کام پر لگا دیا جاتا ہے اور جب ایک ملک کی ۹۵ فی صد آبادی کو اس کے جائز حقوق سے صریح نا انصافی کر کے محروم رکھا جائے تو اس کے دل میں ناراضگی کے جذبات کا پیدا ہوتا ایک فطری امر ہے لیکن نہایت ہی افسوس ہے کہ ریاست کے ذمہ دار حکام بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے جائز مطالبات منظور کریں ان کی خفگی کو رائفلوں اور بک شاٹ سے دور کرنا چاہتے ہیں جموں کے حکمرانوں نے کشمیر کو فتح نہیں کیا تھا بلکہ انگریزوں نے اسے ان کے ہاتھ ایک حقیری رقم کے بدلے فروخت کر دیا تھا لہذا وہاں جو کچھ ہو رہا ہے حکومت برطانیہ بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔مزید بر آن ریاست آخر کار برطانیہ کے ماتحت ہے اور موجودہ حکمران جو محض ایک چیف تھا ریاست اور اختیارات کے لئے حکومت برطانیہ کا ممنون احسان ہے اس لئے حکومت برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیر کے بے بس مسلمانوں کی شکایات کے ازالہ کے لئے جو کچھ کر سکتی ہے کرنے سے دریغ نہ کرے۔کشمیر کی اپنی علیحدہ زبان ہے اور اس کا تمدن اور مذہب وغیرہ جموں سے بالکل جداگانہ ہے اس لئے ڈوگرہ وزراء سے کشمیری مسلمانوں کے حق میں کسی بہتری کی توقع نہیں ہو سکتی اور انہیں اس وقت تک امن حاصل نہیں ہو سکتا۔جب تک ان کی اپنی وزارت کے ذریعہ مہاراجہ جموں ان پر حکومت نہ کریں لہذا انسانیت کے نام پر میں یورا ایکسی لینسی سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ آپ کشمیر کے لاکھوں غریب مسلمانوں کو جنہیں برٹش گورنمنٹ نے چند سکوں کے عوض غلام بنا دیا ان مظالم سے بچالیں تاکہ ترقی اور آزاد خیالی کے موجودہ زمانہ کے چہرہ سے سیاہ داغ دور ہو سکے۔کشمیر بے شک ایک ریاست