تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 422 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 422

تاریخ احمدیت جلد ۵ 410 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کی جائیدادیں لوٹ لینے پر ہی اکتفانہ کیا بلکہ ۱۳ ۱۴ / جولائی ہی کو کئی سو بے گناہ مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل خانہ میں ڈال دیا۔گرفتار ہونے والوں میں تحریک آزادی کے تمام مشہور لیڈر بھی شامل تھے۔اس واقعہ کی تفصیل میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں۔۱۳ / جولائی ۱۹۳۱ء کو جب گورنمنٹ کو یہ معلوم ہو گیا کہ مسلمان اب آپے سے باہر ہو گئے ہیں اور مظالم کی برداشت ان سے ناممکن ہے تو انہوں نے یہ سوچا کہ مسلمانوں کے لیڈروں کو گرفتار کر لینا چاہئے چنانچہ جو لوگ مرنے والوں کو جیل خانہ سے اٹھا کر مسجد میں لے آئے تھے اور اس بات کی تیاری کر رہے تھے کہ دوسرے دن مسلمانوں کے اجتماع کے ساتھ ان کو دفن کر آئیں پہلے تو حکام نے ان کو یہ سمجھانا شروع کیا کہ تم لوگ خاموشی سے چند آدمی لاشوں کے ساتھ بھیجوا دو اور پالک پر اس حادثہ کو ظاہر نہ ہونے دو۔اور یہاں تک بھی تجویز کی کہ جامع مسجد جہاں لاشیں رکھی ہوئی تھیں اس کے قریب ایک جگہ میں ان کو دفن کردو لیکن مسلمان لیڈروں نے اس کو تسلیم نہ کیا اس پر گورنمنٹ نے تجویز کی کہ ظاہر میں تو لیڈروں کا پکڑنا مشکل ہو گا چوری چھپے ان لوگوں کو یکدم گرفتار کر لیا جائے چنانچہ مسٹر سدرلینڈ جو اس وقت فوج کے افسر اور غالبا جرنیل کے عمدہ پر تھے وہ جامع مسجد کے دروازہ پر آئے اور اشارہ سے شیخ عبد اللہ صاحب کو بات کرنے کے بہانے سے بلایا۔اور پھر چپ کر کے ان کو ساتھ لے گئے اور جیل خانہ میں ڈال دیا اس کے کچھ گھنٹوں کے بعد میاں غلام نبی صاحب گلکار جو دو سرے لیڈر تھے ان کو بھی ان کے گھر پر رات کے نو دس بجے گرفتار کر لیا۔پھر ۱۵ یا ۱۷ / جولائی کو تیرے لیڈر مسٹر عبدالرحیم کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور غالبا ۱۴ تاریخ کی رات کو ہی یعنی جس دن صبح شیخ عبد اللہ صاحب کو گرفتار کیا تھا جموں کے اس وفد کے تین لیڈروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔جو مسٹرو یکفیلڈ کے کہنے پر مہاراجہ سے ملنے کے لئے گیا تھا۔اور جس کا اس ایجی ٹیشن میں کوئی حصہ نہ تھا۔ان لوگوں کے نام یہ تھے۔(۱) جناب مستری یعقوب علی صاحب ٹھیکیدار (۲) سردار گوہر رحمان صاحب (۳) چوہدری غلام عباس صاحب زعمائے کشمیر نے اس موقعہ پر جس حوصلہ اور جاں فروشی کا نمونہ دکھایا اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اخبار "اصلاح " ( سرینگر) نے ۱۳ / جولائی ۱۹۳۲ء کو لکھا۔جب شیخ عبد اللہ صاحب اور ان کے نوجوان ہمراہیوں کو رات کے اندھیرے میں بادامی باغ سے قلعہ ہری پر بت میں لے جایا گیا اور ایک اندھیری کوٹھری کے سامنے لے جا کر دریافت کیا گیا کہ کون پہلے اندر جانا چاہتا ہے تو اس خیال سے کہ شاید اس کو ٹھری میں ایک ایک کر کے سب کو گولی سے اڑا دیا جائے گا بعض نوجوانوں کے حوصلے پست ہو گئے اس وقت شیخ صاحب موصوف نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ دنیا میں انسان کو ایک -