تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 418
تاریخ احمدیت جلد ۵ 406 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به A کر دیا جائے اس موقعہ پر پھر بغیر تنبیہ کے پولیس کو فائر کرنے کا حکم دے دیا گیا۔گورنمنٹ کی رپورٹ یہ تھی کہ دس آدمی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے پبلک کی رائے یہ تھی کہ اس سے بہت زیادہ آدمی مارے گئے ہیں اور جو لاشیں جیل میں رہ گئیں وہ الگ ہیں لیکن پولیس نے جن کا تعاقب کیا اور گلیوں میں جاکر ان کو شہید کر دیا وہ ان کے علاوہ تھے مسلمانان کشمیر نے اس وقت جس شجاعت اور بہادری کا نمونہ دکھایا اس کا اقرار کرتے ہوئے مسٹرو یکفیلڈ نے لکھا۔”فسادات کے دوران جو ۱۹۳۱ء میں ہوئے جتنے بھی کشمیری مرے ان کے سارے کے سارے زخم سینے پر تھے پشت پر نہیں تھے۔مسلمانان سرینگر پر مظالم سے متعلق چشم دید شہادت اس سے زیادہ تفصیل ہمیں مولوی عبداللہ صاحب وکیل، پیر قمر الدین صاحب وغیرہ وکلاء اور دوسرے اصحاب کی شہادتوں سے ملتی ہے جو الفضل ۱۸/ اگست ۱۹۳۱ء) میں شائع شدہ ہیں۔ان شہادتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر دو صاحبان ملزم عبد القدیر صاحب کی طرف سے پیرو کار تھے اس کے علاوہ مسٹر غلام محمد صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی موجود تھے۔۱۳ / جولائی ۱۹۳۱ء کو مسلمانوں کی ایک جماعت جیل کے باہر عبد القدیر صاحب کا مقدمہ سننے کے لئے جمع ہوئی جس کا ہر گز یہ مقصد نہ تھا کہ وہ کسی قیدی کو چھڑائے مقدمہ عبد القدیر کے ساتھ مسلمانوں کو یہ تعلق تھا کہ عبد القدیر توہین قرآن کریم کے سلسلے میں تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔اور مسلمان اس مقدمہ کو نہ ہی مقدمہ سمجھتے ہیں اس لئے مقدمہ کی کارروائی سننے کے لئے آنا مسلمانوں کا فطری تقاضا تھا مسلمان ہرگز جیل کے دروازہ کی طرف نہیں دوڑے اور نہ گارد پر حملہ کیا۔اور نہ پھاٹک سے داخل ہو کر اندرونی دروازہ پر پہنچنے کی کوشش کی بلکہ بیرونی پھاٹک کھلا تھا لوگ بیرونی پھاٹک سے داخل ہو کر بیرونی صحن میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے۔صاحب سیشن جج کے آنے پر دو تین سو اشخاص ان کے ساتھ صحن میں داخل ہوئے سیشن جج نے وکلاء ملزم سے کہا کہ لوگوں کو ہدایت کریں کہ باتیں کر کے شور نہ ڈالیں۔وکلاء ملزم نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا آپ چلے جائیں اسلام کا حکم ہے کہ امن سے رہو۔اس پر لوگ جو اس صحن میں جمع تھے باہر چلے گئے جیل سے متصل ایک باغ میں ایک اور جماعت مسلمانوں کی مقدمہ سننے کے لئے جمع تھی ایک مسلمان پولیس افسر نے وکلاء ملزم سے کہا کہ اس جماعت کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی چلی جائے۔اور صحن میں نہ آئے چنانچہ وکیل نے مع ایک پولیس کے آدمی کے انہیں کہا کہ آپ چلے جائیں اور کوئی آدمی صحن میں نہ آئے انہوں نے جواب دیا کہ ہم نماز ظہر پڑھ کر چلے جاتے ہیں