تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 408 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 408

تاریخ احمدیت جلد ۵ 404 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ جب سے ہمارے خاندان کے ہاتھ حکومت آئی ہے ہندو مسلمان بھائیوں کی طرح آپس میں رہے ہیں لیکن اب کچھ کشیدگی ہو رہی ہے جو ہر گز پسندیدہ نہیں۔اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمہاری جو شکایات ہوں وہ براہ راست میرے پاس ہونی چاہئیں میں اپنی رعایا کے ہر ایک فرد سے ملاقات کروں گا (حالانکہ مہاراجہ کی ملاقات ناممکن ہے عوام کو بالکل پاس نہیں جانے دیا جاتا) پھر اعلان میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے کہ ریاست کی بات ریاست کے باہر بالکل نہیں جانی چاہئے۔اور باہر کے اخبارات کو بالکل خبر نہیں ہونے دینی چاہیئے اور کسی غیر ریاستی کی مدد بالکل نہ لی جائے مہاراجہ صاحب نے اس بات کا پھر اعلان کیا ہے کہ میں کوئی نے ہب نہیں رکھتا میرا نہ ہب انصاف ہے ملازمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں قابلیت کا معیار رکھا گیا ہے چونکہ مسلمان تعلیم یافتہ لوگ کم ہیں اس لئے وہ زیادہ ملازمتوں میں نہیں ہیں اور جتنے تعلیم یافتہ مسلمان ہیں وہ ملازمتوں میں لگائے گئے ہیں (حالانکہ یہ بیان بالکل غلط ہے سینکڑوں پڑھے لکھے اور کئی گر یجو یٹ مارے مارے پھر رہے ہیں اگر یہ حالت نہ ہوتی تو آج نوجوان اس قدر شور نہ کرتے۔دوسرے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف رغبت نہیں دی جاتی اور ان کو Qualify کرنے کے لئے کوئی مدد ریاست نہیں دیتی صرف پنڈتوں اور ڈوگروں کی مدد اور آرام کا خیال رکھا جاتا ہے)۔آخر میں پولیس وغیرہ کی مدح سرائی کرتے ہوئے ان کا اعلان ختم ہوا کہ یہ لوگ نہایت ایمانداری سے عوام کی مدد کریں گے (مدد یہی ہے کہ رشوت کا بازار تمام ریاست میں گرم ہے اور یہ لوگ اپنے آپ کو فرعون خیال کرتے ہیں) چند روز سے بارش کا زور رہا۔طوفان بہت آیا گذشتہ سالوں کا طوفان امسال سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔پنڈی اور کشمیر کا راستہ تباہ ہو گیا ہے اور سنا ہے کہ کو ہالہ کاپل بہہ گیا ہے البتہ جموں کے راستہ سے آمدو رفت جاری ہے ڈاک آج چار دن کے بعد قلیوں کے ذریعہ یہاں پہنچی ہے۔خدا جانے یہ عریضہ کب حضور کی خدمت میں پہنچے گا۔کاروبار کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے حضور کی خدمت اقدس میں ملتمس ہوں کہ حضور اپنی خاص دعاؤں میں اس عاجز کو بھی یاد رکھیں باقی حالات جو ہوں گے اس کی اطلاع بعد میں کروں گا۔والسلام حضور کا ادنی ترین خادم خاکسار محمد یوسف