تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 404
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 400 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پھر اپنے منشاء کے مطابق اپنے فعل کی تشریح کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔چوتھے حکومت ہند ریاستوں کے معالمہ میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کر چکی ہے اور ان کی اس پالیسی کی تائید مسلمان بھی کر چکے ہیں پس حکومت ہند پر اس معاملہ میں زور دینا کوئی معمولی کام نہیں ہو گا اور ہمیں نہایت غور کے بعد کوئی ایسی راہ تلاش کرنی پڑے گی کہ ہمارا اصول بھی نہ ٹوٹے اور ہمارا کام بھی ہو جائے۔پس ان حالات میں ہمیں اپنا پروگرام ایسی طرز پر بنانا ہو گا کہ کشمیر کے مسلمانوں کی ہمت بھی قائم رہے اور حکومت ہند پر بھی ہم زور دے سکیں۔اور کوئی ایسی بات بھی ہم سے صادر نہ ہو جس کا اثر ہمارے بعض دوسرے اصولوں پر جو مسئلہ کشمیر سے کم اہم نہیں ہیں پڑتا ہے اور ایسا پروگرام آل انڈیا کا نفرنس کے بعد ہی مقرر کیا جا سکتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض دوست یہ خیال کر رہے ہیں کہ محض ان شکایات کو پیش کر دینا اور کرتے رہنا جو جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کو ریاست سے ہیں ہمارے لئے کافی پروگرام ہے حالانکہ یہ درست نہیں اس سوال میں بعض ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ اخبارات کے صفحات پر بھی ہم ان کو نہیں لا سکتے۔اور میں ان مسلمانوں کو جو جوش تو رکھتے ہیں لیکن کسی نظام کے تحت کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔بتا دینا چاہتا ہوں اگر کافی غور و فکر کے بعد اور وسیع مشورہ کے بعد اس کا پروگرام تیار نہ کیا گیا تو آئندہ بعض ایسے سوالات پیدا ہو جائیں گے جن کا حل ان کے امکان سے باہر ہو گا۔لیکن اس وقت پچھتانے سے کچھ حاصل نہ ہو سکے گا۔اور مسلمانوں کو بعض ایسے نقصانات پہنچ جائیں گے جن کا خیال کر کے بھی دل کو تکلیف ہوتی ہے پس میں پھر ایک دفعہ ان ذمہ دار لیڈروں کو جو برطانوی ہند کی کشمیر برادری میں رسوخ رکھتے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نہایت محدود لیکن ہندوستان بھر کے چوٹی کے لیڈروں کی ایک کانفرنس کسی ایسے مقام پر جہاں جموں اور کشمیر کے مسلمان بھی آسکیں منعقد کریں۔تا کہ اس موقعہ پر ان تمام مشکلات پر غور کر کے جو ہمارے رستے میں حائل ہیں ایک ایسا پروگرام تیار کیا جائے جس پر عمل کر کے بغیر کسی نئی پیچیدگی کے پیدا ہونے کے ہم مسلمانان کشمیر کی آزادی کے مسئلہ کو حل کر سکیں۔اس پروگرام کے بعد ہی میرے نزدیک کشمیر ڈے کی کوئی تاریخ مقرر کرنی چاہئے اور اتنا عرصہ پہلے سے وہ تاریخ مقرر ہونی چاہئے کہ سارے ہندوستان میں جلسہ کی تیاری کی جا سکے اس دن علاوہ کشمیر کے حالات سے مسلمانوں کو واقف کرنے کے پروگرام کا وہ حصہ بھی لوگوں کو سنایا جائے جس کا شائع کرنا مناسب سمجھا جائے اور ہر مقام پر چندہ بھی کیا جائے اگر فی گاؤں پانچ پانچ روپیہ بھی اوسطاً چندہ کے