تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 402
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 398 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ معروف نہ ہوں اور نہ ان کے نام شائع کئے جائیں کشمیر پہنچ کروہ کشمیر کی انجمن اور دوسرے علاقوں کے سر بر آوردہ لوگوں سے مشورہ کر کے ان کے خیالات کو نوٹ کر کے لے آئیں۔اور کانفرنس میں ان سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔بہر حال کشمیر کے حقیقی مطالبات کا علم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں مختلف طور ظلم ہو رہا ہے اور ہم دور بیٹھے اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن باوجود اس کے میرا یہ مطلب نہیں کہ اگر کشمیر کے نمائندے نہ آسکیں تو ہم کوئی کام ہی نہ کریں۔اگر ان سب تجاویز میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو تو بھی ہمیں کانفرنس کرنی چاہئے جو باشندگان کشمیر کشمیر سے باہر ہیں وہ کم کشمیری نہیں ہیں ہم اس کی مدد سے جس حد تک مکمل ہو سکے اپنی سکیم تیار کر سکتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ یہ کانفرنس تمام فرقوں اور تمام اقوام کی نمائندہ کانفرنس ہو تاکہ متفقہ کوشش سے کشمیر کے سوال کو حل کیا جا سکے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس غرض کے لئے ان مسلمانوں کو بھی ضرور دعوت دینی چاہئے جو کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ لوگ اس کام میں دوسرے مسلمانوں سے پیچھے رہیں گے۔"سیاست" کے مضمون نگار صاحب نے ایک پلیٹی کمیٹی کشمیر کے قیام کی بھی تجویز پیش کی ہے میں اس سے بالکل متفق ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں میں کشمیر کے دوستوں کو پہلے سے لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو کامیاب کرنے کے لئے ہندوستان اور اس کے باہر بھی پروپیگنڈا کی ضرورت ہوگی اور میں اس کام میں سے یہ حصہ اپنے ذمہ لیتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ممبروں اور گورنمنٹ ہند کو کشمیر کے مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کرتا رہوں اور کشمیر کے حالات کے متعلق پارلیمنٹ میں سوال کروا تار ہوں اس کے جواب میں مجھے یہ اطلاع بھی آگئی ہے کہ وہاں بعض دوست ایسے حالات جمع کرنے میں مشغول ہیں جن سے ان مظالم کی نوعیت ظاہر ہو گی۔جو اس وقت کشمیر کے مسلمانوں پر روا ر کھے جاتے ہیں اس فہرست کے آتے ہی میں ایک اشتہار میں ان کا مناسب حصہ درج کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں میں اور دوسرے سر بر آوردہ لوگوں میں تقسیم کراؤں گا اور گورنمنٹ ہند کو بھی توجہ دلاؤں گا۔اس وقت غلامی کے خلاف سخت شور ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کشمیر کی لاکھوں کی آبادی بلا قصور غلام بنا کر رکھی جائے آخر غلام اس کو کہتے ہیں جسے روپیہ کے بدلے میں فروخت کر دیا جائے اور کیا یہ حق نہیں کہ کشمیر کو روپیہ کے بدلہ میں حکومت ہند نے فروخت کر دیا تھا پھر کیا ہمارا یہ مطالبہ درست نہیں کہ جبکہ انگریز عرب اور افریقہ کے غلاموں کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ان غلاموں کو