تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 394 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 394

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 390 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فصل پنجم تحریک آزادی کے پانچویں دور کا آغاز (اپریل ۱۹۳۱ء سے مئی ۱۹۳۳ء تک) مذہبی مداخلت اور توہین قرآن مجید کے ناگوار واقعات اب ہم ۱۹۳۱ء کے اہم سال میں قدم رکھ رہے ہیں جبکہ تحریک آزادی کشمیر مختلف ابتدائی ادوار میں سے گذرتی ہوئی ایک نئے اور انقلاب انگیز دور میں داخل ہو گئی اور وہ مواد جو اندر ہی اندر بے کس مسلمانوں کے قلوب میں پک رہا تھا پھوٹ کر بہہ نکلا اور مظلوم کی زبان اس کے مظالم کی داستان سے ہویدا ہو گئی یہ انقلاب انگیز دور ۲۹/ اپریل ۱۹۳۱ء سے شروع ہوتا ہے جبکہ عید الاضحیہ کے دن جموں میں ایک آریہ ڈپٹی انسپکٹر پولیس نے ایک خطیب کو عید کا خطبہ پڑھنے سے روک دیا۔اور یہ بتانے کے باوجود کہ خطبہ نماز کا ایک ضروری جزو ہے ہندو افسر اس بات پر اڑا رہا میں کہتا ہوں صرف نماز پڑھ سکتے ہو لیکچر کی اجازت نہیں۔ریاست کے مسلمان جو صدیوں سے زیر عتاب چلے آرہے تھے یہ واقعہ برداشت نہ کر سکے۔اور ینگ مینز ایسوسی ایشن نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور اس سلسلہ میں ایک پوسٹر بھی شائع کیا۔جس نے ریاست کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک آگ سی لگادی یہ آتشی ماحول قائم تھا کہ اس کے صرف چند روز بعد ۵ جون کی صبح کو ایک ہندو سارجنٹ کے ہاتھوں قرآن مجید کی سخت بے حرمتی کا دل آزار واقعہ پیش آگیا۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ جموں پولیس کا ایک مسلمان کا نشیبل صبح کے وقت اپنے کمرہ میں تلاوت کر رہا تھا کہ ایک ہندو سارجنٹ آیا اور کانشیل کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے دیکھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے کانسٹیبل کے ہاتھ سے قرآن کریم ( پنجسورہ) چھین کر زمین پر دے مارا۔اور غصہ سے کہنے لگا کہ تم یہ بکو اس پڑھ رہے ہو۔اور بعد میں حکومت کشمیر نے مسلمان سپاہی کو بر طرفی کی سزا دے دی اور ظالم و سفاک ہندو افسر کو پنشن پر ریٹائر کر دیا جس کے نتیجہ میں کئی مسلمانوں کے زخمی دلوں پر نہایت بیدر دانہ طریق سے نمک پاشی ہوئی۔اس زمانہ کے قریب ریاسی کی مسجد بھی گرائی گئی اور ڈھنگوار اور کوٹلی میں نماز پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی۔ان واقعات کے یکے بعد دیگرے ہونا، ہر واقعہ میں عبادت میں دخل اندازی کا ہونا اور پھر ہر واقعہ میں غیر مسلم پولیس کا ہا تھ ہو نا تا تا ہے کہ یہ اتفاقی حادثات نہیں تھے بلکہ دیدہ دانستہ کسی سکیم کا نتیجہ تھے ۹۵