تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 393
تاریخ احمدیت جلد ۵ 389 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به уро ہونے کی وجہ سے اس کا نام فتح کدل ریڈنگ روم رکھا گیا اور اس سے وابستہ لوگ ”ریڈنگ روم پارٹی " کے نام سے موسوم ہوئے اور اس کے صدر شیر کشمیر محمد عبد اللہ صاحب اور جنرل سیکرٹری خواجہ غلام نبی صاحب گل کار چنے گئے۔جموں میں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کے سیاسی لیڈر مثلاً جناب ٹھیکیدار مستری یعقوب علی صاحب چوہدری غلام عباس صاحب جناب سردار گوہر رحمان صاحب) بڑی جانفشانی کوشش، خلوص اور استقلال سے تحریک آزادی کا علم بلند کر رہے تھے اور سرایلین بینرجی کے بیان کے بعد پنجاب کے مسلم پریس کے ذریعہ کشمیر کے اندرونی حالات بیرونی دنیا کے سامنے لا رہے تھے شیخ محمد عبد اللہ صاحب ایسوسی ایشن سے رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے خود جموں تشریف لے گئے۔اور اپنے مشن میں کامیاب واپس اگر جلسوں جلوسوں اور تقریروں کا سلسلہ شروع کر دیا اور اب جموں کی طرح سرینگر سے بھی پنجاب کے مسلم پریس میں ڈوگرہ راج کے ظلم و ستم اور مسلمانوں کی مظلومی اور بیکسی کے متعلق مراسلات اور مضامین بھیجوائے جانے لگے جن اخبارات میں یہ خطوط و مضامین شائع ہوتے تھے ریڈنگ روم پارٹی اسے پھیلا دیتی۔ریڈنگ روم پارٹی نے ایک اور خفیہ پارٹی بنائی جو سرکاری ملازموں پر مشتمل تھی جس میں خواجہ علی شاہ صاحب خواجہ غلام محمد صاحب گلکار ، حکیم علی ریشم خانہ غلام احمد صاحب عشائی نظام الدین صاحب مستو، صفدر علی صاحب پیر غلام احمد صاحب فاضل اور پیر غلام رسول صاحب تھے جن کے ذمہ یہ کام تھا کہ مسلمانان ریاست کی ملازمتوں کے اعدادو شمار جمع کر کے پنجاب کے اخبارات کو ارسال کئے جائیں۔چنانچہ یہ کام پوری سرگرمی سے جاری رہا۔