تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 392 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 392

تاریخ احمدیت، جلد ۵ 388 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ 2 ۵۴ سٹیٹ ہائی سکول میں سائنس ماسٹر مقرر ہو چکے تھے۔اور آپ سے اکثر بلکہ روزانہ ملا کرتے تھے۔سرینگر کا مشہور اخبار "اصلاح" خواجہ غلام نبی صاحب گلکار کی ان ابتدائی خدمات کا ذکر درج ذیل الفاظ میں کرتا ہے۔"کشمیر کا ہر کس دنا کسی بخوبی جانتا ہے کہ مسٹر گل کار ہی وہ مایہ ناز ہستی ہے جس کو سب سے پہلے اپنی قوم کی مظلومی و بے کسی کے خلاف آواز اٹھانے کا فخر حاصل ہوا۔کشمیر کا بچہ بچہ اس امر کا زندہ گواہ ہے کہ مسٹر گل کار ان ہو نہار نوجوانوں میں سے ہے جس کے دل نے سب سے پہلے قوم کی خستہ حالی پر درد محسوس کیا جو نہی کہ اس نے عالم شباب میں قدم رکھا اس کی نگاہ قوم کی زبوں حالی و بد حالی پر پڑی اور اس کے دل پر ایسی چوٹ پڑی کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تحریک کشمیر کا جھنڈا بلند کرتا ہوا میدان میں کودا اور خطرات و مصائب کی پروانہ کرتے ہوئے قوم کو بیدار اور ہوشیار کرنے کے لئے عملی جدوجہد شروع کر دی اس مجاہد اعظم کی درد بھری آواز اور مخلصانہ تحریک نے صدیوں کے سوئے ہوئے غلام ملک کو بیدار کیا اور سالہا سال کی روندی ہوئی قوم میں زندگی کی لہر پیدا کر دی۔ON جناب خواجہ صاحب کی نمایاں سیاسی زندگی کا آغاز " آل کشمیر مسلم سوشل آپ لفٹ ایسوسی ایشن " سے ہو تا ہے جو نوجوانان سرینگر نے ۱۹۳۰ء میں کشمیری مسلمانوں کی تنظیم کے لئے قائم کی اور جس کے پہلے صدر آپ ہی تجویز ہوئے اس تنظیم کو جن سر بر آوردہ مسلمانوں کی پشت پناہی حاصل تھی ان میں مولوی احمد اللہ صاحب ہمدانی ، مولوی عبد اللہ صاحب وکیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔انہی دنوں ایسوسی ایشن کے ممبروں میں ایک ایسے سرگرم انقلابی لیڈر کا اضافہ ہوا جس نے آئندہ چل کر اندرون ریاست میں تحریک حریت کا جھنڈا اس شان سے بلند کیا کہ وہ خود مجسم تحریک بن گیا۔میری مراد شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے ہے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ایس سی ( کیمسٹری) کی ڈگری لیکر سرینگر میں تشریف لائے اور آتے ہی ایسوسی ایشن میں ایک نئی روح پھونک دی - ۸/ مئی ۱۹۳۲ء کو آل کشمیر مسلم سوشل اپ لفٹ ایسوسی ایشن کا پہلا اجلاس کا چنگری مسجد حاجی سم را تھر کے محلہ میں خواجہ محمد سکندر صاحب ٹیلیگراف ماسٹر کے مکان پر ہو ا جس میں قریباً ایک سو نوجوان شامل ہوئے اور انہوں نے حلف اٹھایا کہ ہم ڈوگرہ حکومت سے کشمیر کو آزاد کرا کے چھوڑیں گے۔4۔- چونکہ ریاست میں سیاسی انجمن بنانے کی اجازت نہ تھی اس لئے لے پایا کہ ایک ریڈنگ روم کھولا جائے جس سے تحریک آزادی کے لئے پراپیگنڈا سنٹر کا کام لیا جا سکے چنانچہ مجوزہ پروگرام کے مطابق دوسرے دن ۹ / مئی ۱۹۳۰ء کو عید الاضحیہ کے دن یہ ریڈنگ روم کھولا گیا اور فتح کدل پر واقع !