تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 391
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 387 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۵۰ نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ یہ وعدے اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتے ہیں ان صاحب کو جو اس وقت کسانوں کی حمایت کر رہے تھے یہ یقین دلایا کہ ان کی جائز شکایات پر ریاست غور کرے گی اس لئے وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے شورش اور فتنہ کا خوف ہو لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ زمینداروں کی جائز شکایات کو دور ہو نا تو الگ رہا برابر دو سال سے ( یہ الفاظ جون ۱۹۳۱ ء میں لکھے گئے ناقل) ان صاحب کے خلاف ریاست کے حکام کوشش کر رہے ہیں اور باوجود مقامی حکام کے لکھنے کے کہ وہ صاحب نہایت ہی شریف انسان ہیں ان کا نام بد معاشوں میں درج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے "۔حضور کے دل کو (جو کشمیر کے بے بس اور مظلوم مسلمانوں کی غلامانہ زندگی اور دکھ بھری داستان پر پہلے ہی بہت دکھی تھا) اس قسم کے اخلاق سوز اور خلاف انسانیت واقعات سے اور زیادہ ٹھیس پہنچی۔چنانچہ فرماتے ہیں ”۱۹۲۹ء میں جب مجھے کشمیر جانے کا اتفاق ہوا تو پھر وہاں بعض اس قسم کے حالات دیکھنے میں آئے جن کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کی ہمدردی کا نقش اور گہرا ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس سفر میں اہل کشمیر کو اپنی مدد آپ کرنے اور متحد و منظم ہونے کی پر زور تلقین فرمائی جیسا کہ حصہ اول میں بتایا جا چکا ہے۔or خواجہ غلام نبی صاحب گلکار سرینگر کے پر جوش سرینگر میں ریڈنگ روم پارٹی کا قیام اموری اور اپنے خاندان میں پہلے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جسب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سرینگر میں تشریف لائے تو خواجہ صاحب کو بھی حضور کی مجلس سے فیض یاب ہونے کا موقعہ ملا۔ملک و قوم کی خدمت کی چنگاری طالب علمی کے زمانہ ہی سے آپ کے اندر دبی ہوئی حضور کی توجہ سے اب سلگنے لگی اور انہوں نے ۱۹۳۰ء کے آغاز میں مختلف پبلک مقامات پر جا جا کر اصلاحی تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا۔اور ان میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نصائح کے پیش نظر تعلیم اتحاد اور معاشرتی رسوم و رواج کی اصلاح پر زور دینے لگے۔۵۳ مورخ کشمیر منشی محمد الدین صاحب فوق لکھتے ہیں: جب شیخ محمد عبد اللہ جن کی خدمات ادلین نے ان کو شیر کشمیر کا خطاب دیا ہے علی گڑھ میں تعلیم پارہے تھے خواجہ غلام نبی ان ایام سے بھی قبل اپنی قومی پستی کا زبر دست احساس رکھتے تھے آپ نے چند مسلمانوں کو منظم کیا۔لیکن ریاست میں ان ایام میں انجمن بنانا جرم تھا آپ نے مسجدوں دعوتوں ، خانقاہوں اور میلوں اور ایسے ہی اجتماعات سے انجمنوں کا کام لے کر لیکچر وغیرہ شروع کر دیئے آپ کے ساتھ ان دنوں مسٹر عبد الغنی ننگر و ولد صابر جو نگر و ساکن پلوامہ اور فتح کدل سرینگر کے ایک لڑکے غلام حسن ولد حبیب اللہ صابون کے سوا کوئی آگے آنے والا نہ تھا۔ان ایام میں شیخ محمد عبد اللہ علی گڑھ سے ایم۔ایس۔سی ہو کر واپس کشمیر آچکے اور