تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 389 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 389

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 385 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به ریاست اسے قدردانی اور قبولیت کی نظر سے دیکھے اور عملی جامہ پہنائے۔سرا یلین بینر جی ایک غیر مسلم ہیں۔ان کا مسلمانان کشمیر کے ساتھ سوائے اس کے اور کوئی تعلق نہیں کہ وہ اپنے پہلو میں بنی نوع انسان سے ہمدردی رکھنے والا ایک درد مند دل رکھتے ہیں۔فطرت انسانی کا یہی تقاضا ہے کہ عاجز و مظلوم کی حالت دیکھ کر درد سے دل بھر جائے۔یہ جلسہ ریاستی برادری اسلام سے پر زور استدعا کرتا ہے کہ ہر جگہ جلسے کر کے ذمہ دار حکام کی اس صلح کش حرکت اور چند نام نہاد مسلمانوں کی ملت فروشانہ کارروائی کے خلاف بر ملا نفرت ملامت کریں جس کا ارتکاب وہ دوروں سے اور جلسے کر کے کر رہے ہیں۔جو مسلمانان کشمیر کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں بلکہ باعث ہلاکت ہے۔۔۔۔آخر میں یہ جلسہ سرا یلین بینرجی کا اپنی کل مسلمان ریاست کی طرف سے دلی شکریہ ادا کرتا ہے اور ان کے بے غرضانہ بیان اور اس وسعت قلبی پر بصدق دل مبارک باد عرض کرتا ہے " " ۲۸-۲۷ / اپریل الفضل میں مسلمانان کشمیر کے مطالبات اور انکی تائید ۱۹۲۹ء کو لدھیانہ میں آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا جس میں اہل کشمیر کی فلاح و بہبود کے لئے ۱۹ ریزولیوشنز پاس کئے اور کانفرنس کے لائحہ عمل اور اس پر عملدرآمد کے لئے چالیس افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی اس اجلاس کی روداد الفضل (۱۴) مئی ۱۹۲۹ء) نے (جو عرصہ سے کشمیری مسلمانوں کے مسئلہ میں دلچسپی لے رہا تھا) شائع کرتے ہوئے اہل کشمیر کے اہم مطالبات عوام تک پہنچائے۔" آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس " نے اپنے اس اجلاس میں یہ قرار داد بھی پاس کی کہ یہ اجلاس نہایت افسوس سے اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ دربار کشمیر گذشتہ چند سال سے ان تجاویز کو جو کانفرنس سالانہ اجلاس میں منظور کرتی ہے اور دربار کو بھیجتی ہے توجہ کرنا تو کجا جواب دینے سے بھی قاصر رہا۔جو معمولی رواداری کا تقاضہ تھا اور باوجود کانفرنس کے متواتر مطالبات کے مسلمانان کشمیر کے مصائب کو دور کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی " A